تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 376 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 376

تاریخ احمدیت۔جلدا وه ۳۷۵ سفر علی گڑھ آنحضرت میر کی زیارت بھی کرا سکتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ اس کے لئے مناسب شرط ہے اور میری طرف منہ کر کے فرمایا کہ یا جس پر خدا کا فضل ہو جائے۔اسی رات میں نے آنحضرت میم کو خواب میں دیکھا"۔دوسرا واقعہ : دو سرا واقعہ یہ ہے کہ ایک سائل آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرا ایک عزیز فوت ہو گیا ہے اور میرے پاس کفن دفن کے لئے کچھ انتظام نہیں ہے اور اس نے کچھ سکے چاندی اور تانبے کے رکھے ہوئے تھے یہ دکھانے کے لئے کہ کسی قدر چندہ ہوا ہے اور ابھی اور ضرورت ہے۔حضرت اقدس نے قاضی خواجہ علی صاحب سے فرمایا کہ ”قاضی صاحب ان کے ساتھ جا کر کفن کا انتظام کر دو۔حضرت اقدس کی اس قسم کی عادت مبارک نہیں تھی بلکہ عام طور پر جو مناسب سمجھتے نہایت درجہ فیاضی سے دے دیتے۔اس ارشاد سے خدام کو تعجب ہوا۔حضرت قاضی صاحب نے بھی یہ نہیں پوچھا کہ کیا دے دوں۔بلکہ وہ ساتھ ہی ہو گئے۔سائل قاضی صاحب کو لے کر رخصت ہوا۔تھوڑی دیر بعد حضرت قاضی صاحب مسکراتے ہوئے واپس آئے اور کہا حضور وہ تو بڑا دھوکہ باز تھا راستہ میں جاکر اس نے میری بڑی منت خوشامد کی کہ خدا کے واسطے آپ نہ جاویں جو کچھ دیتا ہے دے دیں۔میں نے کہا کہ مجھے تو خود جانے کا حکم ہے جو کچھ تمہارے پاس ہے یہ مجھے دو جو کچھ خرچ آئے گا میں کروں گا۔آخر جب اس نے دیکھا کہ میں ٹلتا ہی نہیں تو اس نے ہاتھ جوڑ کر ندامت کے ساتھ کہا کہ نہ کوئی مرا ہے اور نہ کوئی کفن دفن کی ضرورت ہے۔یہ میرا پیشہ ہے۔اب میری پردہ دری نہ کرو۔تم واپس جاؤ۔میں اب یہ کام نہیں کرونگا "۔