تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 368 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 368

تاریخ احمدیت۔جلدا سفر علی گڑھ نگاری میں سند عام کا درجہ حاصل کرنے اس سے بے نیاز ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔بایں ہمہ قابل غور و فکر پہلو یہ ہے کہ یہ شہادت کس نوعیت کی ہے؟ اگر یہ شہادت اس بات کی ہے کہ سلسلہ احمدیہ سے وابستہ ہونے والے قدیم ترین فدائیوں کے نام اور کوائف کیا تھے تو یہ سو فیصد درست ہے اور اگر شہادت سے مراد یہ ہے کہ اس سے بیعت کرنے والوں کی ٹھیک ٹھیک عملی ترتیب اور صحیح صحیح تاریخ کی نشاندہی ہوتی ہے تو قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ عنہما جیسے اکابر محققین احمدیت کی رائے میں بھی اس کا جواب یکسر نفی میں ہے حتی کہ سرے سے اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ اس میں مندرجہ تواریخ ہجری رسمی عین بیعت کے وقت لکھی گئی تھیں۔چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سیرۃ المہدی حصہ سوم میں فرماتے ہیں۔بیعت کنندگان کے رجسٹر سے جو مجھے مکرم میر محمد اسحاق صاحب کے ذریعہ دستیاب ہوا ہے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ آیا بیعت کے وقت ہی اس رجسٹر میں فورا اندراج کر لیا جاتا تھا یا کہ بیعت کے بعد چند اسماء اکٹھے درج کر لئے جاتے تھے۔موخر الذکر صورت میں اس بات کا امکان ہے کہ بوقت اندراج اصل ترتیب سے کسی قدر اختلاف ہو جاتا ہے۔بلکہ بعض اندراجات سے شبہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات ایسا ہو جاتا تھا کیونکہ بعض صورتوں میں زبانی روایات اور اندراج میں کافی اختلاف ہے “۔(صفحہ ۴۱) حضرت قمر الانبياء او نور اللہ مرقدہ) نے مندرجہ بالا تحریر میں جس "کافی اختلاف" کی طرف سے نہایت اجمالی مگر تبلیغ رنگ میں اشارہ فرمایا ہے اس کی بعض نہایت واضح مثالیں بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہاء حضرت سید نا المصلح الموعود، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور دوسرے اکابر سلسلہ اس رائے پر متفق ہیں کہ پہلے دن چالیس بزرگوں نے بیعت کی تھی۔(سیرت المہدی حصہ اول صفحه ۱۸ سیرت مسیح موعود از حضرت مصلح موعود - سلسلہ احمدیہ صفحه ۲۹ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب - ذکر حبیب صفحہ 9 مولفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھیروی) اس مسلمہ حقیقت کے باوجود رجسٹر بیعت کے ابتدائی اوراق میں چالیس کی بجائے چھیالیس کے نام لکھے ہیں۔رجسٹر بیعت میں تینتالیسویں نمبر پر حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوئی ان کا اسم گرامی و نام نامی درج ہے حالانکہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی ( بروایت حضرت مولانا عبد اللہ صاحب سنوری) لکھا ہے کہ ” بیعت اولی کے دن مولوی عبد الکریم صاحب بھی وہیں موجود تھے مگر بیعت نہیں کی۔(سیرت المہدی حصہ اول طبع دوم صفحه (۷۸)