تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 367 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 367

تاریخ احمدیت جلدا سفر علی گڑھ نتیجہ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔اس تعلق میں بنیادی طور پر صرف دو امور پیش کئے جاسکتے ہیں۔قدیم رجسٹر بیعت میں مندرجہ تاریخ۔حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری کی بیان رمودہ قمری و شمسی تاریخوں میں عدم موافقت۔اول الذکر سے بظاہر اس خیال کو بہت تقویت حاصل ہوتی ہے کہ سلسلہ بیعت در اصل ۲۱ مارچ ۱۸۸۹ ء سے جاری ہو چکا تھا اور قادیان کانگڑہ ، غوث گڑھ ، جموں مالیر کوٹلہ شاہ پور کڑیا نہ جمنٹ اور لدھیانہ وغیرہ کے چھیالیس بزرگ بیعت ہو چکے تھے۔ثانی الذکر امر یہ بھاری شبہ ڈالتا ہے کہ بیعت اولیٰ کی ابتدا ء ۱ ۲ یا ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کی بجائے ۲۲- مارچ کو ہوئی تھی کیونکہ مصری فاضل محمد مخار باشا کی تقویم التَّوْفِيْقَاتُ الْإِلْهَا مِيَةِ " سے ثابت ہوتا ہے کہ ۲۰۔رجب ۱۳۰۶ھ کو ۲۲۔مارچ ۱۸۹۹ء کا دن تھا۔قدیم رجسٹر جو تاریخ احمدیت کی ایک مقدس دستاویز اور بیعت اوٹی کے دور کی نہایت بیش قیمت یاد گار ہے آج تک خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے۔یہ رجسٹر حضرت اقدس مسیح موعود کے حکم سے تیار کیا گیا تھا اور اس کا نام ” بیعت تو بہ برائے حصول تقویٰ و طہارت تجویز فرمایا گیا۔اس رجسٹر کی تحریر مختلف ہاتھوں میں رہی۔بعض نام حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنے قلم سے لکھے بعض حضرت مولانانور الدین اور دوسرے بزرگوں نے۔اس رجسٹر کا پہلا ورق چونکہ ضائع ہو چکا ہے اس لئے اس کے ابتدائی ناموں کا پتہ نہیں چلتا۔اپریل ۱۹۳۹ء میں قمر الا نبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے پہلی بار اس کے ابتدائی ۶۲ اندراجات اپنی کتاب سیرۃ المہدی حصہ سوم میں شائع فرمائے تو اس کے پہلے آٹھ نام بعض زبانی اور مستند روایات سے قیاسا درج کر کے اس کے پہلے نمبر پر ۱۹- رجب ۱۳۰۶ھ اور ۲۱ - مارچ ۱۸۸۹ء کی تاریخوں کا اس لئے اضافہ فرما دیا کہ رجسٹر میں سینتالیسویں نمبر پر پہلی تاریخ جو بطور یادداشت درج تھی وہ ۲۰ - رجب ۱۳۰۶ھ اور ۲۲ مارچ ۱۸۸۹ ء تھی۔سیرت المہدی حصہ سوم کی اس فہرست سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ۱۹۔رجب ۱۳۰۶ھ مطابق ۲۱- مارچ ۱۸۸۹ء ہی کو یوم الیعت تسلیم کیا جانا چاہئے جیسا کہ حال ہی میں بیرون پاکستان کے ایک فاضل دوست نے راقم الحروف کے نام اپنے ایک تازہ مکتوب میں لکھا ہے اور زور دیا ہے کہ رجسٹر کی اندرونی شهادت کو کیوں قبول نہیں کیا جاتا ؟ بلا شبہ یہ قدیم رجسٹر بیعت ایک مستند وقیع قابل استناد اور ثقہ شہادت سابقون الاولون کے اسماء مبارکہ کی ہے اور کوئی احمدی محقق خواہ وہ کتنی عظیم علمی شخصیت کا حامل ہو اور تاریخ نویسی اور وقائع