تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 332 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 332

تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۳۱ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق قمری نشان بڑے بڑے را جاؤں اور نوابوں کا کیا جاتا ہے ریاست کے دستور کے مطابق ہاتھی اور گھوڑے لے کر اسٹیشن پر گئے اور ایک شاندار جلوس حضرت اقدس کے استقبال کے لئے مرتب کیا۔وزیر صاحب فرماتے دنیا کے لوگوں کی عزت تو کی جاتی ہے مگر اصل عزت کے لائق تو یہ لوگ ہیں جو دین کی جائے پناہ ہیں۔استقبال کے وقت لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ جمع تھے۔لوگ شوق زیارت سے ایک دو سرے پر گرے پڑتے تھے۔کہتے ہیں کہ اس قدر خلقت کا اژدہام تھا کہ پٹیالہ کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی مگر حضرت ہیں کہ اس ظاہری شان و شوکت کی طرف آنکھ بھی اٹھا کر نہیں دیکھتے۔نہ کسی دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں نہ کوئی فخر ہے نہ غرور نہ تکبر۔رہی سادگی وہی منکسر المزاجی جو جبلت میں خدا نے ودیعت فرمائی تھی اب بھی عیاں ہے آنکھیں حیا سے نیچے جھکی ہیں لب ہائے مبارک پر ہلکاہلکا تبسم ہے چہرہ پر انوار الٹی کی بارش ہو رہی ہے۔گویا ابھی غسل کر کے باہر نکلے ہیں۔دیکھنے والوں کی نظر آپ پر پڑتی ہے۔تو سبحان اللہ سبحان اللہ کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔چاروں طرف سے السلام علیکم ! السلام علیکم کی آواز آتی ہے آپ کمال وقار سے ہر ایک کا جواب دیتے اور دونوں ہاتھوں سے اور کبھی ایک ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں۔۔جتنے دن آپ پٹیالہ میں مقیم رہے زائرین کا تانتا بندھا رہا۔آپ اپنے مواعظ حسنہ سے طالبان ہدایت کو فیضیاب کرتے رہے۔مختلف مجالس میں مختلف مسائل کا ذکر ہوتا تھا بالخصوص آریوں اور عیسائیوں کے متعلق اور ان کی خلاف اسلام کارروائیوں کا اکثر ذکر ہو تا تھا۔انہی دنوں میں آپ قریب کے ایک سنور میں بھی تشریف لے گئے جو آپ کے مخلص دوست مشهور و معروف مولوی عبد الله صاحب سنوری کا مولد و مسکن تھا یہ حضرت کے اخلاق کریمانہ کے تقاضے سے تھا کہ آپ ایک بڑے آدمی کی دعوت پر پٹیالہ گئے تو اپنے ایک غریب دوست کو بھی جس کی دیوی حیثیت پٹواری سے زیادہ نہ تھی اپنے قدوم میمنت لزوم سے نوازا۔جو شخص شاہی مہمان ہو اور جس کا اس قدر تزک و احتشام سے استقبال کیا گیا ہو اس کا ایک غریب شخص کے گھر پر چلے جانے میں عار نہ سمجھنا فی الحقیقت اس امر کی دلیل ہے کہ یہ شخص اخلاص کا بے انتہا قدر دان ہے۔حضرت اقدس کا اصول تھا کہ اپنے مخلص دوستوں کی خواہ وہ ریوی حیثیت میں کتنے ہی ادنی ہوں بے پناہ عزت اور محبت کرتے تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے۔ع قدیمان خود را بیفزائے قدر م حضرت والا مولانا محمد عبد اللہ خان صاحب مرحوم و مغفوران دنوں پیالہ میں ہی تھے چنانچہ سب سے پہلی دفعہ آپ کو اسی جگہ حضرت اقدس سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔آپ نے اس ملاقات کا