تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 331
تاریخ احمدیت جلدا ۳۳۰ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق قمری نشان کر سکتے ہیں کہ ایک جلہ۔منعقد ہو کر چار سوال بند کاغذ میں حاضرین جلسہ میں سے کسی کے ہاتھ میں دے دیں گے وہ ہمیں الہاما بتایا جائے۔حضرت اقدس نے یہ طریق مقابلہ بھی قبول فرمالیا۔مگر فرما یا فتح مسیح کہ جس کی طینت میں دروغ ہی دروغ ہے ہرگز قابل التفات نہیں ہے۔ہاں اگر پادری وائٹ بر سخٹ صاحب ایک عام جلسہ میں یہ حلفا اقرار کریں کہ اگر کسی بند لفافہ کا مضمون جو میری طرف سے پیش ہو دس ہفتہ تک مجھے بتلا دیا جائے تو میں دین مسیحی سے بیزار ہو کر مسلمان ہو جاؤں گا۔اور اگر ایسا نہ کروں تو ہزار روپیہ جو پہلے سے کسی ثالث منظور کردہ کے پاس جمع کرا دو نگا بطور تاوان انجمن حمایت اسلام لاہور میں داخل کیا جائے گا۔اس تحریری اقرار اور نور افشاں میں اس کی اشاعت کے دس ہفتہ تک ہم نے لفافہ بند کا مضمون بتلا دیا تو ان کا روپیہ ضبط ہو گا اور اگر ہم نہ بتلا سکے تو ہم دعویٰ الہام سے دست بردار ہو جائیں گے اور نیز جو سزا زیادہ سے زیادہ ہمارے لئے تجویز ہو وہ بخوشی خاطر اٹھالیں گے"۔rr پادری فتح مسیح تو شملہ بھاگ گیا تھا اور پادری بر سخٹ اس مقابلہ کے لئے آمادہ نہ ہو سکے اس طرح عیسائیت کے دیسی اور یورپین پادریوں کی حق پوشی بالکل نمایاں ہو گئی۔اور اسلام کو ایک بار پھر شاندار فتح نصیب ہوئی۔سفر پٹیالہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس روحانی مقابلے کے چند روز بعد وزیر الدولہ دبیر الملک خلیفہ سید محمد حسن خان صاحب وزیر اعظم پٹیالہ کی درخواست پر (جون ۱۸۸۸ء) میں پٹیالہ تشریف لے گئے۔خلیفہ صاحب موصوف حضرت اقدس کے خاص عقیدت مندوں میں سے تھے۔جب براہین احمدیہ شائع ہوئی تو وہ دل و جان سے آپ کے گرویدہ ہو گئے اور اس کی اشاعت میں نمایاں حصہ لیا۔آپ بصد ذوق و شوق براہین پڑھتے دوسروں سے پڑھوا کر سنتے اور گھنٹوں محظوظ ہو کر زبان سے بار بار فرماتے فی الحقیقت یہ شخص علماء ربانی میں سے ہے"۔حضرت اقدس کے سفر پٹیالہ کے ایمان افزا حالات جناب مرتضی خان حسن صاحب نے اخبار پیغام صلح ۲۶۔مئی ۱۹۵۴ ء میں شائع کئے تھے جو درج کئے جاتے ہیں۔لکھتے ہیں "وزیر صاحب کی دعوت پر حضرت اقدس جون ۱۸۸۸ء میں پٹیالہ تشریف لے گئے۔آپ حضرت کی آمد پر جامے میں پھولے نہ سماتے تھے۔ریاست میں اعلان کیا کہ ہمارے ایک عالم ربانی تشریف لا رہے ہیں ان کی زیارت کے لئے سب کو آنا چاہیے۔۔حضرت تشریف لائے تو آپ کا استقبال اس شان و شوکت سے کیا جس طرح