تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 330
تاریخ احمدیت۔جلد کے لئے اجازت دی جائے۔۳۲۹ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق قهری نشان تاسیہ روئے شود هر که درد غش باشد چنانچہ ۲۱ - مئی ۱۸۸۸ء کو حضرت اقدس کی قیام گاہ پر بٹالہ کے معزز مسلمان اور ہندو رئیس اور عیسائی نہایت ذوق و شوق کے ساتھ بہت بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔تا اسلام اور عیسائیت کے اس فیصلہ کن روحانی مقابلہ کا نظارہ دیکھیں۔مگر ہوا وہی جو حضرت اقدس نے قبل از وقت بتا دیا تھا۔فتح مسیح اپنے چند عیسائی دوستوں کے ساتھ دس بجے کے بعد جلسہ میں پہنچے۔اور اپنے وعدہ کے مطابق پیشگوئیاں پیش کرنے کی بجائے انہوں نے سراسر لا طائل اور بیہودہ باتیں چھیڑ دیں جن کا موضوع سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔آخر حاضرین میں سے ایک معزز ہندو نے ان سے کہا کہ یہ جلسہ صرف بالمقابل پیش گوئیاں پیش کرنے کے لئے منعقد ہوا ہے اور یہی آپ کا اقرار ہے اور اسی شوق میں سب لوگ یہاں اکٹھے ہوئے ہیں سو اس وقت الهامی پیشگوئیاں بیان کرنا چاہئے۔اس کے جواب میں پادری صاحب نے بر سر عام کہا۔”اصل بات یہ ہے کہ میری طرف سے دعوئی الہام نہیں ہے اور جو کچھ میرے منہ سے نکلا تھا میں نے یونہی فریق ثانی کے دعوے کے بالمقابل پر ایک دعوی کر دیا تھا۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ان کا جھوٹا دعوی ہے سو ایسے ہی میں نے بھی ایک دعوی کر دیا۔پادری صاحب کی زبان سے جھوٹ کا یہ کھلا کھلا اعتراف سن کر حاضرین جلسہ نے ان پر سخت لے دے کی۔خصوصاً رائے شمبر داس صاحب رئیس بٹالہ ، بابو گوردت سنگھ صاحب مختار عدالت اور منشی محمد بخش صاحب مختار عدالت نے انہیں ملزم کیا کہ یہ دروغ گوئی نیک چلنی کے برخلاف تم سے وقوع میں آئی اگر تم فی الحقیقت ملہم نہیں تھے تو خلاف واقعہ علم ہونے کا کیوں دعویٰ کیا۔پادری صاحب اس شرمناک دروغ گوئی اور کذب طرازی پر سخت معتوب ہوئے اور جلسہ برخاست ہو گیا۔اس روحانی مقابلہ اسلام کی زبردست فتح اور عیسائیت کی شکست بالکل نمایاں ہو گئی۔فتح مسیح دیسی پادری تھا مگر حضرت اقدس نے یورپین پادری ہر برٹ وائٹ بر سخٹ سٹائن (انچارچ بٹالہ مشن) پر خصوصاً اور دوسرے یورپین پادریوں پر عموماً اتمام حجت کے لئے دوسرا اشتہار شائع کیا جس میں روحانی مقابلہ کی زبر دست دعوت دی اور اسی غرض سے برابر ایک ماہ تک بٹالہ میں قیام بھی فرمایا۔پادری فتح مسیح نے جو اپنی زبان سے شکست کا اعتراف کر چکا تھا اپنی شرمندگی پر پردہ ڈالنے کے لئے اخبار "نور انشاں" (۷ - جون ۱۸۸۸ء) میں یہ افترا کیا کہ میں نے الہام کا دعویٰ نہیں کیا تھا حالانکہ اس نے پادری وائٹ پر سخٹ کے نام اپنے ہاتھ سے ایک چٹھی میں صاف لکھا کہ میں نے بالمقابل الہامی ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔پادری فتح مسیح نے اب کے نورافشاں میں لکھا کہ ہم اس طور پر تحقیق الہامات کے لئے جلسہ