تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 329 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 329

تاریخ احمدیت جلدا ۳۲۸ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق قهری نشان سلسلہ میں بٹالہ میں نبی بخش صاحب ذیلدار کے مکان پر فروکش تھے کہ عیسائیوں کی طرف سے ایک پادری فتح مسیح نامی حضور کی فرودگاہ پر آیا۔اور ایک مجلس میں جس میں پچاس سے کچھ زیادہ مسلمان اور ہندو وغیرہ جمع تھے۔حضرت اقدس سے مخاطب ہو کر دعویٰ کیا کہ جیسے آپ اس بات کے مدعی ہیں کہ میری اکثر دعا ئیں جناب الہی میں پایہ قبولیت پہنچ کر ان کی قبولیت سے پیش از وقوع مجھ کو اللہ تعالی بذریعہ اپنے الہام خاص کے اطلاع دیتا ہے اور غیب کی باتوں پر مجھے مطلع کرتا ہے یہی مرتبہ ملم ہونے کا مجھ کو بھی حاصل ہے اور خدا تعالی مجھ سے بھی ہمکلام ہو کر اور میری دعائیں قبول کر کے پیش از ظهور مجھے کو اطلاع دے دیتا ہے۔اس لئے میں آپ سے آپ کی پیشگوئیوں میں مقابلہ کرنا چاہتا ہوں۔جس قدر اور جس طور کی پیشگوئیاں عام جلسہ میں آپ تحریر کر کے پیش کریں گے اسی قسم کی پیشگوئیاں اپنی طرف سے میں بھی پیش کروں گا اور فریقین کی پیشگوئیاں اخبار ” نور افشاں" میں شائع کرادوں گا۔اور پھر خود ہی ۲۱ مئی ۱۸۸۸ء کی تاریخ اس مقابلہ کے لئے مقرر کی۔حضرت اقدس نے پادری فتح مسیح کی یہ دعوت فورا منظور فرمائی اور اسی دن بذریعہ اشتہار یہ اعلان شائع فرما دیا کہ ۲۱ مئی ۱۸۸۸ء کو پادری فتح مسیح روح القدس کا فیض اور الہامی پیشگوئیاں بالمقابل بتانے کے لئے ہمارے مکان پر آئیں گے پہلے ہم الہامی پیشگوئیاں بقید تاریخ پیش کریں گے اور پھر اس کے مقابل پر ان کے ذمہ ہو گا کہ ایسی ہی الہامی پیشگوئیاں وہ بھی پیش کریں۔پس جو صاحب اس مقابلہ کو دیکھنا چاہتے ہیں وہ دس بجے تک ہمارے مکان پر پہنچ جائیں۔پھر اگر میاں فتح مسیح بر طبق اپنے وعدہ کے پیر کے دن آموجود ہوئے اور روح القدس کی الہامی طاقت جو اٹھارہ سو برس سے عیسائی جماعت سے بوجہ گمراہی گم ہو چکی ہے تازہ کر دکھا ئیں اور ان پیشگوئیوں کی سچائی اپنے وقت میں ظہور میں آجائے تو بلا شبہ عیسائیوں کو اپنے مذہب کی صداقت پر ایک حجت ہو گی۔کیونکہ ایسے عظیم الشان میدان مقابلہ میں خدا تعالٰی نے ان کی حمایت کی اور مسلمانوں کی نہ کی اور ان کو فتح دی اور مسلمانوں کو فتح نہ دی۔لیکن اگر ہماری پیشگوئیاں کچی نکلیں اور اسی میدان میں دشمن کو شکست اور ہم کو فتح ہوئی۔تو اس سے صاف ثابت ہو جائے گا کہ خدا مسلمانوں کے ساتھ ہے اس بے نظیر مقابلہ کی اہمیت بتانے کے علاوہ آپ نے اس اشتہار میں صریح الفاظ میں لکھ دیا کہ چونکہ ہم یقیناً جانتے ہیں کہ عیسائی کلیسیا برکت اور قبولیت اور ایمانداری کے پھلوں سے بالکل خالی ہے اور سارا گزارہ لاف و گزاف اور یاوہ گوئی پر ہے اور تمام برکتیں اسلام سے ہی خاص ہیں اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ اس لاف و گزاف کی اصلیت ظاہر کرنے کے لئے اور نیز یہ بات پبلک کو دکھانے کے لئے کہ کہاں تک عیسائیوں میں دروغ گوئی اور بے باکی نے رواج پکڑ لیا ہے بالمقابلہ کر امت نمائی