تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 328
تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۲۷ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق قمری نشان تا ہم خدا تعالیٰ نے یہ روک بھی دور کر دی۔اور مجھے اللہ تعالٰی نے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائى فالحمد لله علی ذالک میں پھر زور دار الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیشگوئی بھی پوری ہو گئی۔میں ان لوگوں سے جن کو احمدیت قبول کرنے میں یہ پیش گوئی حائل ہے عرض کرتا ہوں کہ وہ مسیح الزمان پر ایمان لے آئیں۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں یہ وہی مسیح موعود ہیں جن کی نسبت نبی کریم ﷺ نے پیش گوئی فرمائی تھی۔اور ان کا انکار نبی کریم ال کا انکار ہے "۔|TA- ان تفصیلات سے عیاں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اگر ظاہری طور پر اس دنیا میں محمدی بیگم کا نکاح ہو جاتا تو وہ اتنا زبردست نشان نہ ہو تا جتنا ز بر دست نشان وہ اس دوسری صورت میں ہو گیا کہ اس خاندان کا ایک بڑا حصہ (جو حضرت اقدس کی اسلامی دعوت و تبلیغ کے خلاف مسلسل دس سال تک مخالفت پر ڈٹا رہا تھا۔اور آپ کے خلاف ہندوؤں اور عیسائیوں سے ساز باز کر تا رہا تھا) بالا خر خدا تعالیٰ کے اس قمری نشان سے راہ راست پر آگیا اور جو لوگ اپنی مخالفت پر قائم رہے وہ صفحہ ہستی سے مٹادیئے گئے۔آپ کے جدی بھائیوں کی ہر شاخ کاٹی گئی اور آپ کی مبارک نسل اور جماعت خدائی دعدوں کے مطابق دیکھتے ہی دیکھتے دنیا پر ایک تناور درخت کی طرح چھا گئی۔جس وقت حضور نے دعوی کیا اس وقت آپ کے خاندان میں ستر کے قریب مرد تھے۔لیکن اب ان کے سوا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جسمانی یا روحانی اولاد ہیں ان ستر میں سے کسی ایک کی بھی اولاد موجود نہیں۔پس حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کی اگر کوئی اور پیش گوئی نہ ہوتی تو فقط یہی ایک نشان اسلام محمد عربی الیہ اور آپ کی صداقت کے ثبوت میں کافی تھا۔پادری فتح مسیح کی طرف سے روحانی مقابلہ کی دعوت اور شکست کا اعتراف مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری سے متعلق پیشگوئی کے واقعات پر یکجائی نظر ڈالنے کے بعد اب ہم پھر اصل مضمون کی طرف آتے ہیں۔اوپر بتایا جا چکا ہے کہ عیسائی مرزا احمد بیگ کے خط کی اشاعت پر ایک بار پھر میدان مقابلہ میں اترے۔یہ مقابلہ صرف خط و کتابت کی اشاعت تک محدود نہیں رہا بلکہ عیسائیوں نے حضور کو نشان نمائی میں مقابلہ کا چیلنج بھی دیا۔مگر بالا خر کھلا فرار اختیار کر گئے۔۱۸ مئی ۱۸۸۸ء کا واقعہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام بشیر اول کے علاج معالجہ کے