تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 327
تاریخ احمدیت جلدا ۳۲۶ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق قمری نشان وغیرہ کے متعلق ہے اس پیشگوئی کو ہر جگہ پیش کر کے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس کا پورا ہونا ثابت کرو۔حالا نکہ وہ بھی صفائی کے ساتھ پوری ہو گئی۔میں اس پیشگوئی کے متعلق ذکر کرنے سے پیشتر یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ایک انذاری پیشگوئی تھی اور ایسی اندازی پینگوئیاں خدا تعالٰی اپنے نبی کے ذریعہ اس لئے کرایا کرتا ہے کہ جن کے متعلق ہوں ان کی اصلاح ہو جائے۔چنانچہ قرآن کریم میں خدا تعالی فرماتا ہے۔وما نر سل بالایات الا تخویفا کہ ہم انبیاء کو نشانات اس لئے دیتے ہیں کہ لوگ ڈر جائیں اس میں اللہ تعالٰی نے یہ اصل بیان فرما دیا ہے۔کہ ایسی انذاری پیشگوئیاں لوگوں کی اصلاح کی غرض سے کی جاتی ہیں۔جب وہ قوم اللہ تعالٰی سے ڈر جائے اور اپنی صلاحیت کی طرف رجوع کرے تو اللہ تعالٰی اپنا معلق عذاب بھی ٹال دیتا ہے جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا واقعہ۔نیز حضرت موسیٰ کی قوم کی حالت ولَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرَّجُزُ (اعراف: ۱۳۵) سے ظاہر ہے۔اس صورت میں انذاری پیشگوئی کا لفظی طور پر پورا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔یہی نقشہ یہاں نظر آتا ہے۔کہ جب حضرت مرزا صاحب کی قوم اور رشتہ داروں نے گستاخی کی یہاں تک کہ خدا تعالی کی ہستی سے انکار کیا۔نبی کریم اور قرآن پاک کی بنک کی اور اشتہار دے دیا کہ ہمیں کوئی نشان دکھلایا جائے تو اس کے جواب میں اللہ تعالٰی نے اپنے مامور کے ذریعہ پیشگوئی فرمائی۔اس پیشگوئی کے مطابق میرے نانا جان مرزا احمد بیگ صاحب ہلاک ہو گئے اور باقی خاندان ڈر کر اصلاح کی طرف متوجہ ہو گیا جس کا ناقابل تردید ثبوت یہ ہے کہ اکثر نے احمدیت قبول کر لی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت غفور و رحیم کے ماتحت قہر کو رحم سے بدل دیا یہاں تک کہ انہوں نے (یعنی مرزا سلطان محمد صاحب نے ) ( حضرت اقدس) مرزا صاحب سے حسن عقیدت کے متعلق مختلف اوقات پر اپنا اظہار خیال بذریعہ خطوط فرمایا نہ صرف خیال ظاہر فرما دیا بلکہ معاندین سلسلہ کے اکسانے پر انہیں صاف جواب دے دیا۔مثلاً ہندوؤں عیسائیوں اور مسلمانوں نے ہزاروں روپے کا لالچ دے کر اس بات کی کوشش کی۔کہ آپ اس امر کا اعلان کر دیں کہ وہ پیشگوئی کی وجہ سے نہیں ڈرے لیکن آپ نے ہرگز ان کی بات نہ مانی۔احمدیت کے متعلق ان ( مراد مرز اسلطان محمد صاحب ناقل) کی حسن عقیدت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ جس طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے والد ابو طالب بعض دینوی مشکلات کی وجہ سے نبی کریم کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے تھے۔لیکن حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کو بیعت کر لینے نہیں روکا تھا۔اسی طرح جب میں بھی خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوا تو آپ بجائے کسی قسم کی طعن و تشنیع کرنے کے خوش ہوئے۔اگر چہ میرے والد صاحب کا تاحال احمدیت میں داخل نہ ہونا اس پیشگوئی کے پورے ہونے میں کسی طرح بھی مانع نہیں ہو سکتا تھا سے