تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 322 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 322

تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۲۱ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق پیش گوئی اس زمانہ کی ہے کہ جب کہ ہنوز وہ لڑکی نابالغ تھی اور جب کہ یہ پیش گوئی بھی اس شخص کی نسبت ہے جس کی نسبت اب سے پانچ برس پہلے کی گئی تھی۔یعنی اس زمانہ میں جب کہ اس کی یہ لڑکی آٹھ یا نو برس کی تھی۔تو اس پر نفسانی افترا کا گمان کرنا اگر حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔؟" نیز فرمایا " ہمیں اس رشتہ کی درخواست کی کچھ ضرورت نہیں تھی۔سب ضرورتوں کو خداتعالی نے پورا کر دیا تھا اولاد بھی عطا کی اور ان میں سے وہ لڑکا بھی جو دین کا چراغ ہو گا۔بلکہ ایک اور لڑکا ہونے کا قریب مدت تک وعدہ دیا۔جس کا نام محمود احمد ہو گا۔اور اپنے کاموں میں اولو العزم نکلے گا پس یہ رشتہ جس کی درخواست کی گئی ہے محض بطور نشان کے ہے تاخد اتعالیٰ اس کنبہ کے منکرین کو اعجوبہ قدرت دکھلاوے اگر وہ قبول کریں تو برکت اور رحمت کے نشان ان پر نازل کرے اور ان بلاؤں کو دفع کر دیوے جو نزدیک چلی آتی ہیں لیکن اگر وہ رد کریں تو ان پر قہری نشان نازل کر کے ان کو متنبہ کرے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ ماموروں کے جسمانی رشتہ داروں پر بھی اس مامور کی وجہ سے فضل و رحم ہوتا ہے چنانچہ رسول اکرم ﷺ نے جب مختلف خواتین کو اپنے نکاح میں لیا تو ان کے خاندانوں پر یہ رحمت و برکت ہوئی کہ انہیں ہدایت نصیب ہو گئی۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت صفیہ بنت حی بن اخطب (وفات ۵۵۰ ) اور قبیلہ بنو مصطلق کے سردار حارث کی بیٹی حضرت جویریہ (وفات ۵۰ھ) سے عقد کیا تو ان کے خاندان کے اکثر افراد بلکہ بعض کی پوری قوم حلقہ بگوش اسلام ہو گی اللہ تعالٰی نے حضرت مسیح موعود کے خاندان پر بھی اس رنگ میں رحمت و برکت نازل کرنے کا ارادہ فرمایا اور حضرت اقدس نے احمد بیگ کو پہلے خط میں الہام الہی کے مطابق صاف صاف خبر دیدئی کہ "اگر آپ اپنی دختر کلاں کا رشتہ منظور کریں تو وہ تمام نحوستیں آپ کی اس رشتہ سے دور کر دیگا اور آپ کو آفات سے محفوظ رکھ کر برکت پر برکت دے گا۔اور اگر رشتہ وقوع میں نہ آیا تو آپ کے لئے دوسری جگہ رشتہ کرنا ہرگز مبارک نہ ہو گا۔اور اس کا انجام درد اور تکلیف اور موت ہوگی یہ دونوں طرف برکت اور موت کی ایسی ہیں جن کو آزمانے کے بعد میرا صدق اور کذب معلوم ہو سکتا ہے (اب جس طرح چاہو آزمالو) 2 الم مرزا احمد بیگ سے مسلمانوں کی طرف سے پیشگوئی کے ظہور کے لئے دعائیں اور کی متعلق پیشگوئی چونکہ کفر و اسلام کا ایک بہت بڑا معرکہ تھا۔اس لئے اس زمانہ میں مسلمان اس پیشگوئی کے ظہور کے لئے دعائیں کرتے تھے چنانچہ (سلسلے کے ایک شدید مخالف قاضی فضل احمد صاحب کی روایت کے