تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 16
تاریخ احمدیت۔جلد - 14 سلسلہ احمدیہ کا تعارف ایس جی - ولیم سن (S۔G۔WILLIAMSON) گولڈ کوسٹ کے شمالی علاقوں میں بڑے بڑے چرچ رومن کیتھولک چرچ کے سوا اب تک حضرت محمد مصطفی کے پیروؤں کے لئے میدان خالی کر چکے ہیں۔گولڈ کوسٹ پر سن بائی ٹیرین چرچ اب شمال کی جانب کھسکنا شروع ہو گئے ہیں۔اشانٹی اور گولڈ کوسٹ کے جنوبی حصوں میں عیسائیت اب تک نفع میں ہے۔لیکن جنوب کے بعض حصوں میں خاص کر ساحل کے ساتھ ساتھ تحریک احمدیت بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔گولڈ کوسٹ کے متعلق جو عام طور پر یہ امید تھی کہ یہ علاقہ جلدی عیسائیت قبول کر لے گا۔اب یہ امید جتنا کہ ہم خیال کرتے ہیں اس سے بھی زیادہ خطرہ میں ہے۔ڈاکٹر پیرنڈر کہتے ہیں کہ جنوب میں بت پرستی مر رہی ہے اور اسلام بڑھ رہا ہے اور اکثریت حاصل کر رہا 177-"< اس ضمن میں بالخصوص افریقہ میں جماعت احمدیہ کی کامیاب تبلیغی مساعی کے متعلق امریکہ کے اخبار لائف کی یہ تازہ شہادت ہے کہ : حال ہی میں کچھ عرصہ قبل دنیا میں تبلیغ اسلام کی کوئی منتظم تحریک موجود نہ تھی۔مسلمانوں میں خدا اور بندے کے درمیان کسی اور کو واسطہ تسلیم نہ کرنے کے شدید جذبہ کی وجہ سے اسلام میں پاپائیت کبھی سر نہ اٹھا سکی۔ہر مسلمان اپنے انفرادی ایمان کی بدولت اپنی ذات میں اسلام کے ایک مبلغ کی حیثیت رکھتا تھا تا ہم اسلام خود اپنے جذبہ تفاخر کا اس رنگ میں شکار ہو تا رہا کہ اس نے دوسرے معتقدات کی تحقیر میں نئے اور عجمی افکار و نظریات کے ساتھ علاقہ پیدا کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔لیکن موجودہ زمانے میں اب مسلمانوں کے اندر ایسے آثار ظاہر ہوئے ہیں کہ جن سے ایک رجحان کی نشاندہی ہوتی ہے اور وہ رجحان یہ ہے کہ مسلمانوں نے بھی اب نمیسائیوں کی تبلیغی تنظیم اور ان کے فنکارانہ اسلوب میں دلچسپی لینی شروع کر دی ہے۔۔۔حتی کہ قاہرہ کی الانی ورسٹی بھی جسے اسلام کے ایک علمی مرکز کی حیثیت حاصل ہے اور جو مغربی اثرات کا شدت سے مقابلہ کرتی رہی ہے۔اب ہر سال بعض طلبہ کو اس غرض سے تیار کرتی ہے کہ وہ اسلام کی تبلیغ کا فریضہ ادا کر سکیں۔مزید برآں اسلام کے بعض دوسرے فرقوں میں بھی زندگی اور قوت کے آثار روز بروز نمایاں ہو رہے ہیں۔ان میں سب سے زیادہ پیش پیش ایک نیا فرقہ ہے جو جماعت احمدیہ کے نام سے موسوم ہے۔اس کا صدر مقام پاکستان میں ہے اور یورپ، افریقہ امریکہ اور مشرق بعید کے ممالک میں اس کے باقاعدہ تبلیغی مشن قائم ہیں۔۔۔احمدیت کی تحریک گذشتہ نصف صدی کے اندر اندر ہندوستان میں معرض وجود میں آئی۔بعض دوسرے اسلامی فرقوں کی طرح اس کی ابتداء بھی غیر