تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 306 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 306

تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۰۵ آریہ سماج کا طوفان بے تمیزی امید سے کسی اسی جگہ کے یہودا اسکر یوطی یا بگڑے ہوئے سکھ کی دم دہی سے جاری کئے گئے ہیں مگر ہمیں کچھ ضرور نہیں کہ مجازی حکام کو اس کی اطلاع دیں۔کیونکہ جو کچھ یہ لوگ ہماری نسبت بد ارادے کر رہے ہیں ہمارے حاکم حقیقی کو ان کا علم پہلے ہی سے حاصل ہے۔ہم متعجب ہیں کہ ان کی ان تیزیوں کا کیا باعث ہے کیا رام سنگھ کے کوکوں کی روح تو ان میں کہیں گھس نہیں آئی۔اے آریو ہمیں قتل سے تو مت ڈراؤ ہم ان ناکارہ دھمکیوں سے ہر گز ڈرنے والے نہیں۔جھوٹ کی بیخ کنی ہم ضرور کریں گے اور تمہارے دیدوں کی حقیقت ذرہ ذرہ کر کے کھول دیں گے۔نمی ترسیم از مردن چنین خوف از دل انگندیم۔که ما مردیم زان روزی که دل از غیر برکندیم دل و جان در ره آن داستان خود فدا کردیم اگر جان ما زما خواهد بصد دل آرزو مندیم صبر و شکیب تو ہمار اشعار ہے مگر ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ دیا نندی فرقہ کی کس قدر خطر ناک پالیسی ہے اور لاجواب ہونے کی حالت میں کیا عمدہ تدبیر سوچ رکھی ہے کہ قتل کی دھمکی دی جائے یوں تو کون شخص ہے کہ ایک دن نہیں مرے گا مگر یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ ایسی دھمکیاں ان لوگوں کے دلوں پر کیا کار گر ہو سکتی ہیں جن کو کتاب الہی نے پہلے ہی سے یہ تعلیم دے رکھی ہے قُلْ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِرْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ یعنی مخالفین کو کہدے کہ میں جان کو دوست نہیں رکھتا میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا خدا کے لئے ہے وہی مقدار خدا جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا ہے ہاں یہ دھمکیاں ان دلوں پر کارگر ہو سکتی ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دنیا نہیں چاہتے کیونکہ اس کی طرح قدیم اور انادی اور غیر مخلوق بنے بیٹھے ہیں اور اس کو اس قابل نہیں سمجھتے۔کہ اس حق گزاری کے لائق ہو"۔"رسالہ قرآنی صداقتوں کا جلوہ گاہ" " آریوں کے رسالہ سرمہ چشم آریہ کی حقیقت اور فن فریب غلام احمد کی کیفیت کو دیکھ کر حضرت اقدس کو خیال ہوا کہ باطل کی سرکوبی کے لئے ایک ماہنامہ جاری کرنا چاہیئے جو ویدوں کے مقابل قرآن مجید کی عظمت و وقعت کا سکہ بٹھارے حضور نے اس کا نام ” قرآنی صداقتوں کا جلوہ گاہ" تجویز فرمایا اور "شحنہ حق" میں جون ۱۸۸۷ء سے اس کی باقاعدہ اشاعت کا اعلان بھی کر دیا لیکن بعد کو یہ تجویز ملتوی کر دی گئی۔