تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 302 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 302

تاریخ احمدیت۔جلدا " ۳۰۱ ماسٹر مرلی دھر صاحب سے مبارہ سرمہ چشم آریہ پاش پاش کر دیا ہے کتاب کے فیصلہ کن دلائل کا رد کرنا قطعی طور پر ناممکن ہے۔D سرمہ چشم آریہ" میں آریہ سماج کے بنیادی اصولوں کی جس طرح دھجیاں اڑائی گئی ہیں اس کی یاد خود ماسٹر مرلی دھر آخر دم تک بھلا نہیں سکے۔چنانچہ انہوں نے ایک دفعہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے متعلق اس رائے کا اظہار کیا کہ ”مرزا صاحب غیر معمولی علم رکھتے ہیں میں نے علمائے اسلام میں وہ چیز نہیں دیکھی جو ان میں ہے "۔" سرمہ چشم آریہ" سے متعلق جواب دیا۔" واقعات درست ہیں نتائج اپنے طرز پر مرزا صاحب نے پیدا کر لئے ہیں اور ہر شخص رائے قائم کر سکتا ہے "۔حضرت عرفانی نے کہا کہ نتائج ان واقعات سے ہی پیدا ہوتے ہیں تو کہا کہ اپنا اپنا خیال ہے۔آپ نے کہا کہ آپ رد کریں تو کہا ضرورت نہیں۔ایک غیر احمدی عالم (مولوی سید ابو الحسن علی ندوی) نے اس عظیم الشان کتاب کے متعلق حال ہی میں اپنی یہ رائے شائع کی ہے کہ۔۱۸۸۷ء میں مرزا صاحب نے ہوشیار پور میں مرلی دھر آریہ سماج سے مناظرہ کیا۔اس مناظرہ کے بارے میں انہوں نے ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس کا نام " سرمہ چشم آریہ " ہے یہ کتاب مناظرہ مذاہب و فرق میں ان کی دوسری تصنیف ہے۔پہلے دن کے مناظرہ کا موضوع بحث " معجزہ شق القمر کا عقلی و نقلی ثبوت " تھا۔مرزا صاحب نے اپنی اس کتاب میں نہ صرف اس معجزہ بلکہ معجزات انبیاء کی پر زور و مدلل وکالت کی ہے۔انہوں نے ثابت کیا ہے کہ معجزات و خوارق کا وقوع عقلاً ممکن ہے محدود انسانی عقل اور علم اور محدود انفرادی تجربات کو اس کا حق نہیں کہ وہ ان معجزات و خوارق کا انکار کریں اور اس کائنات کے احاطہ کا دعوی کریں وہ بار بار اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ انسان کا علم محدود و مختصر اور امکان کا دائرہ بہت وسیع ہے ان کا اس پر بھی زور ہے کہ مذاہب و عقائد کے لئے ایمان بالغیب ضروری ہے اور اس میں اور عقل میں کوئی منافات نہیں اس لئے کہ عقل غیر محیط ہے "۔حق و باطل کے فیصلہ کی ایک آسان صورت اور دعوت مباہلہ " سرمہ چشم آریہ " میں حضرت اقدس نے آریوں کو حق و باطل کے فیصلہ کی ایک آسان صورت بتائی کہ وہ کافی غور و فکر کے بعد قرآن مجید سے متعلق دو تین ایسے زبر دست اعتراضات بحوالہ آیات قرآنی پیش کریں جو ان کی دانست میں سب سے قوی ہوں پھر آپ اگر ان کا مسکت جواب دینے سے قاصر رہے تو فی اعتراض پچاس روپیہ بطور جرمانہ ادا کر دیں گے لیکن اگر فریق مخالف کے اعتراضات