تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 303
تاریخ احمدیت جلدا ۳۰۲ باشر مرلی دھر صاحب سے مباحثہ " سرمہ چشم آریہ" لغو ثابت ہوئے تو اسے بلا توقف مسلمان ہو نا پڑے گا۔اس آسان طریق فیصلہ کے علاوہ حضرت اقدس نے اتمام حجت کی غرض سے آریہ سماج کے مشہور اور نامور ممبروں بالخصوص لالہ مرلی دھر، لالہ جیون راس اور منشی اندر من مراد آبادی کو دعوت مباہلہ بھی دی اور فرمایا کہ فیصلہ آسمانی کے انتظار کے لئے ایک برس کی مہلت ہو گی۔پھر اگر ایک برس گزرنے کے بعد مجھ پر کوئی عذاب اور وبال نازل ہوا یا حریف مقابل پر نازل نہ ہوا تو ان دونوں صورتوں میں پانچ سو روپیہ تاوان ادا کر دیں گے اس دعوت کے ساتھ ہی حضور نے اپنی طرف سے بطور نمونہ مباہلہ کی دعا بھی شائع فرما دی۔خیال تھا کہ اس فیصلہ کن طریق سے گریز نہیں کیا جائے گا۔مگر افسوس آریہ سماج نے گذشتہ روایات کے مطابق اس دعوت مباہلہ پر بھی سکوت ہی اختیار کیا۔البتہ پنڈت لیکھرام نے ۱۸۸۸ء میں اپنی کتاب نسخہ "خبط احمدیہ " میں دعائے مباہلہ کرتے ہوئے لکھا۔ے پر میشر ہم دونوں فریقوں میں سچا فیصلہ کر کیونکہ کاذب صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پاسکتا۔اللہ تعالی نے ۶۔مارچ ۱۸۹۷ء کو وہ فیصلہ کر دکھایا جو لیکھرام نے اپنے منہ مانگا تھا " جس سے آریہ سماج کے بطلان اور اسلام کی سچائی پر ابدی مہرلگ گئی (اس کی تفصیل اسی جلد میں آگئے آرہی ہے) سفر انبالہ اس سال (۱۸۸۶ء کے وسط میں) حضرت اقدس نے انبالہ کا سفر بھی اختیار فرمایا اور قریباً ایک ماہ تک محمد لطیف صاحب کی کوٹھی واقع صد ر انبالہ احاطہ ناگ پھنی میں قیام پذیر رہنے کے بعد ۲۵۔نومبر ۱۸۸۶ء کو قادیان تشریف لائے۔