تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 269
تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۶۸ نشان نمائی کی عالمگیر دعوت اٹھے اور مسجد مبارک میں تشریف لے آئے۔منشی صاحب پھر داہنے لگے اور اس دوران میں انہوں نے حضرت سے سوال بھی کر دیا کہ حضور آپ پر یہ سرخی کہاں سے گری ہے ؟ حضور نے بے توجہی سے فرمایا کہ آموں کا رس ہو گا۔دوبار عرض کیا گیا کہ حضور یہ آموں کا رس نہیں یہ تو سرخی ہے اس پر حضور نے سر مبارک کو تھوڑی سی حرکت دے کر فرمایا۔"کتے ہے " یعنی کہاں ہے۔منشی صاحب نے کرتے پر وہ نشان دکھا کر کہا کہ یہ ہے۔اس پر حضور نے کر تہ سامنے کی طرف کھینچ کر اور اپنا سر ادھر پھیر کر قطرہ کو دیکھا اور پھر (منشی صاحب کے بیان کے مطابق) پہلے بزرگوں کے کچھ واقعات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ " خدا کی ہستی وراء الواراء ہے اس کو یہ آنکھیں دنیا میں نہیں دیکھ سکتیں البتہ اس کے بعض صفات جمالی یا جلالی متمثل ہو کر بزرگوں کو دکھائی دیئے جاتے ہیں۔2 رویت باری تعالی اور کشفی امور کے خارجی ظہور پریوں واقعاتی روشنی ڈالنے کے بعد حضرت نے انہیں کشف کی پوری تفصیل سنائی بلکہ اپنے دست مبارک سے کشف میں قلم کے جھاڑنے اور دستخط کرنے کا نقشہ بھی کھینچا اور اسی طرز پر جنبش دی اور ان سے پوچھا کہ اپنا کرتہ اور ٹوپی دیکھیں کہیں ان پر بھی سرخی کا قطرہ تو نہیں گرا۔انہوں نے کر نہ دیکھا تو وہ بالکل صاف تھا مگر ململ کی سفید ٹوپی پر ایک قطرہ موجود تھا۔منشی صاحب نے عاجزانہ درخواست کی کہ حضور اپنا یہ اعجاز نما کر یہ انہیں قبر کا عنایت فرمائیں۔حضرت اقدس کا سلوک اپنے خدام ہی سے نہیں دشمنوں سے بھی فیاضانہ تھا لیکن آپ نے منشی صاحب کی یہ درخواست ماننے سے انکار کر دیا اور فرمایا مجھے یہ اندیشہ ہے کہ ہمارے بعد اس سے شرک پھیلے گا۔اور لوگ اس کو زیارت گاہ بنا کر اس کی پوجا شروع کر دیں گے۔انہوں نے عرض کیا۔رسول اللہ ا کے تبرکات جن صحابہ کے پاس تھے وہ مرتے ہوئے وصیتیں کر گئے کہ ان تبرکات کو ہمارے کفن کے ساتھ دفن کر دینا۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا جو تبرک جس صحابی کے پاس تھا وہ ان کے کفن کے ساتھ دفن کر دیا گیا انہوں نے عرض کیا کہ حضور میں بھی مرتا ہوا وصیت کر جاؤں گا۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔”ہاں اگر یہ عہد کرتے ہو تو لے لو۔چنانچہ حضرت نے جمعہ کے لئے کپڑے بدلے اور یہ کرتہ منشی صاحب کے سپرد کر دیا اس اعجازی کرتے کا کپڑا نیو کہلاتا ہے اور سرخی کا رنگ ہلکا اور گلابی مائل تھا جس میں تینتالیس برس کی طویل مدت گزرنے کے باوجو د خفیف سا تغیر بھی نہیں ہوا۔حضرت منشی صاحب کو اس نشان کے متعلق حضرت منشی صاحب کا حلفیہ بیان نشان آسمانی پر اس درجہ بصیرت و ایماں حاصل تھا کہ ان کی زندگی میں ایک دفعہ مشہور اہلحدیث عالم مولوی ثناء اللہ صاحب امرت سری نے اس کشفی نشان پر تنقید کی تو حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری نے نہ صرف اپنی