تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 270
تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۶۹ نشان نمائی کی عالمگیر دعوت مفصل حلفیہ شہادت شائع کی بلکہ انہیں مباہلہ کا چیلنج بھی دے دیا مولوی صاحب نے چیلنج سے تو گریز اختیار کیا البتہ لکھا کہ ہمارے محلہ کی مسجد میں آکر قسم کھا ئیں چنانچہ وہ سلسلہ کے بعض اکابر کو ہمراہ لے کر بے کھٹکے امرت سر پہنچے اور مولوی ثناء اللہ صاحب کی مسجد میں اپنا مطبوعہ حلفیہ بیان ایسے درد انگیز رنگ میں پڑھ کر سنایا کہ سامعین پر ایک لرزہ طاری ہو گیا نیز کہا کہ مولوی صاحب کے نزدیک یہ حلف کافی نہ ہو تو وہ جن الفاظ میں چاہیں مجھ سے قسم کھلائیں۔میں اپنی اولاد اپنے مال اور اپنی جان غرضکہ ہر چیز کی قسم کھانے کے لئے تیار ہوں میں نے اس سرخی کے نشان کو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ٹخنہ پر پڑا تھا اپنی شہادت کی انگلی لگا کر دیکھا تھا اس سے میری انگلی کو بھی سرخی لگ گئی تھی۔اگر میں یہ جھوٹ کہتا ہوں تو میری انگلی کیا میرے جسم کا ذرہ ذرہ جہنم میں ڈالا جائے۔اور سب سے بڑا جو عذاب ہے وہ مجھ پر نازل کیا جائے "۔حضرت منشی صاحب ایک عرصہ تک لوگوں کو یہ کرتہ دکھانے سے احتراز کرتے تھے۔لیکن جب حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے انہیں ارشاد فرمایا کہ اسے بہت کثرت سے دکھاؤ تا اس کی رؤیت کے گواہ بہت پیدا ہو جائیں تو وہ دکھانے لگے۔اور یوں ہزاروں نفوس کو اسے پچشم خود دیکھنے کا موقعہ مل گیا۔حضرت منشی صاحب نے عمر بھر اعجازی کرتہ کی حفاظت کی اور سفر و حضر میں ہمیشہ اپنے ساتھ ہی رکھتے تھے۔بالا خرے۔اکتوبر ۱۹۲۷ء کو انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا اور یہ قیمتی یادگار بھی حضرت اقدس کی وصیت کے مطابق بہشتی مقبرہ میں سپرد خاک کر دی گئی۔شهب ثاقبہ کا آسمانی نظارہ tt حضرت مسیح ناصری نے اپنی آمد ثانی کے متعلق ایک یہ بھی پیشگوئی کی تھی کہ " اس وقت آسمان سے ستارے گریں گے اور جو قو تیں آسمان میں ہیں وہ ہلائی جائیں گی۔چنانچہ ۲۸۔نومبر ۱۸۸۵ء کی شب کو آسمان پر شب ثاقبہ کا یہ غیر معمولی نظارہ نمودار ہوا۔اس وقت آسمان کی فضا میں ہر طرف اس درجہ بے شمار شعلے چل رہے تھے۔کہ گویا ان کی بارش ہو رہی تھی۔یورپ امریکہ اور ایشیا میں اس سے حیرت کی زبر دست اردو ڈگئی اور اخباروں میں ان کی خبر نمایاں رنگ میں شائع ہوئی جیسا کہ حضرت مسیح نے اشارہ بتایا تھا۔یہ تصویری زبان میں اس امر کا اعلان تھا کہ آسمانی قوتیں اسلامی انقلاب کے لئے ہلا دی گئی ہیں اور اب خدائی افواج کے سپہ سالار کی قیادت میں کفر و باطل کے قلعوں پر حملہ آور ہونے والی ہیں۔شب کی بارش کا یہ آسمانی نظارہ ابتدائے شب سے شروع ہو گیا تھا جسے آپ بہت دیر تک دیکھتے اور خدائی بشارتوں کا تصور کر کے لطف اند روز ہوتے رہے۔اس موقعہ پر آپ پر بار بار ” مار منتَ