تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 268
تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۶۷ نشان نمائی کی عالمگیر دعوت جماعت کے ساتھ قادیان میں نماز جنازہ پڑھی گئی۔حاجی صاحب مرحوم اظہار حق میں بہادر آدمی تھے۔بعض نافہم لوگوں نے حاجی صاحب موصوف کو اس عاجز کے ساتھ تعلق ارادت رکھنے سے منع کیا کہ اس میں آپ کی کسرشان ہے لیکن انہوں نے فرمایا کہ مجھے کسی شان کی پروا نہیں اور نہ مریدوں کی حاجت " - HD طور پر سرخی کے کشفی چھینٹوں کا حیرت انگیز نشان ۱۰ جولائی ۱۸۸۵ء (بمطابق ۲۷ - رمضان (۱۳۰۲ھ ) کا ذکر ہے کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام طلوع آفتاب کے وقت حسب معمول مسجد مبارک کے مشرقی جانب حجرہ میں جو غسل خانہ کے ر استعمال ہو تا تھا شرقا غربا بچھی ہوئی ایک چارپائی پر آرام فرما رہے تھے تازہ پلستر کی وجہ سے حجرہ کی فضا میں خنکی سی تھی۔چار پائی پر نہ کوئی بستر تھا نہ تکیہ اور حضرت اقدس با ئیں کروٹ لیٹے بائیں کہنی سر کے نیچے رکھے اور چہرہ مبارک دائیں ہاتھ سے ڈھانچے ہوئے تھے اور حضور کے مخلص خادم منشی عبداللہ صاحب سنوری نیچے بیٹھے حضور کے پاؤں داب رہے تھے کہ حضرت اقدس نے کشفی عالم میں دیکھا کہ بعض احکام قضاء و قدر حضرت نے اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں کہ آئندہ زمانہ میں ایسا ہو گا اور پھر اس کو دستخط کرانے کے لئے خداوند قادر مطلق جل شانہ کے سامنے پیش کیا ہے۔اور اس نے جو ایک حاکم کی شکل میں متمل تھا اپنے قلم کو سرخی کی دوات میں ڈبو کر اول اس سرخی کو آپ کی طرف چھٹڑ کا اور بقیہ سرخی کا قلم کے منہ میں رہ گیا اور اس سے قضاء و قدر کی کتاب پر دستخط کر دیئے خدا کی معجز نمائی کا نشان دیکھو ادھر عالم کشف میں قلم کی سرخی چھڑ کی گئی اور ادھر یہ سرخی وجود خارجی میں منتقل ہو گئی۔منشی صاحب نے سخت حیرت زدہ ہو کر بچشم خود دیکھا کہ حضور کے ٹخنے پر سرخی کا ایک قطرہ پڑا ہے انہوں نے اپنی دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی اس قطرہ پر رکھی تو وہ قطرہ نخنے اور انگلی پر بھی پھیل گیا۔تب ان کے دل میں یہ آیت گزری صبغه الله و من احسن من الله صبغه۔انہوں نے سوچا کہ جب یہ اللہ کا رنگ ہے تو اس میں خوشبو بھی ہوگی مگر اس میں خوشبو نہیں تھی۔ابھی وہ اسی حیرت و استعجاب میں تھے کہ انہیں حضور کے کرتے پر بھی سرخی کے چند تازہ چھینٹے دکھائی دیئے وہ مبہوت ہو کر آہستہ سے چار پائی سے اٹھے اور انہوں نے ان قطرات کا سراغ لگانے کے لئے چھت کا گوشہ گوشہ پوری بار یک نظر سے دیکھ ڈالا انہیں اس وقت یہ بھی خیال ہوا کہ کہیں چھت پر کسی چھپکلی کی دم کٹنے سے خون نہ گرا ہو۔مگر وہ تو دست قدرت کا کشفی معجزہ تھا خارج میں اس کا کھوج کیا ملتا نا چار وہ چارپائی پر بیٹھ گئے اور دوبارہ پاؤں دابنے کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔تھوڑی دیر بعد حضور عالم کشف سے بیدار ہو کر I