تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 267
تاریخ احمدیت جلد؛ نشان نمائی کی عالمگیر دعوت وسط و سمبر ۱۸۸۵ ء میں لدھیانہ پہنچے اور یکا یک سخت بیمار ہو گئے۔چنانچہ ابھی تیرہ دن ہی واپسی پر گزرے تھے کہ ۱۹- ربیع الاول ۱۳۰۳ھ (بمطابق ۲۷- دسمبر ۱۸۸۵ء) کو پیغام اجل آگیا۔اور آپ لدھیانہ کے قبرستان گور غریباں میں دفن ہوئے۔تھوڑا عرصہ بعد حضرت اقدس بنفس نفیس تعزیت کے لئے لدھیانہ تشریف لے گئے۔آپ کے صاحبزادے حضرت پیر افتخار احمد صاحب کا بیان ہے کہ حضور نے اس موقعہ پر تھوڑی دیر قیام فرمایا۔والد صاحب مرحوم کی محبت اخلاص اور دینی خدمت کا ذکر فرماتے رہے پھر حضور نے مع حاضرین دعا فرمائی۔حضرت صوفی احمد جان صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود کے ان اولین عشاق میں سے تھے۔جنہوں نے اپنے کثیر ارادت مندوں اور عقیدت مندوں کی پروانہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود کے دامن سے وابستگی اختیار کرلی تھی اور شاہی پر غلامی کو ترجیح دی۔حضرت کو بھی آپ سے دلی محبت والفت تھی جس کا ذکر اکثر ان کی وفات کے بعد فرمایا کرتے تھے چنانچہ مارچ ۱۸۸۹ء میں جب بیعت اوٹی ہوئی تو حضرت اقدس نے اس مقدس تقریب کے لئے حضرت صوفی صاحب رضی اللہ عنہ ہی کے مکان کا انتخاب فرمایا۔پھر اس کے بعد جب ازالہ اوہام کی تصنیف فرمائی تو اس میں اپنے مخلصین کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ کے متعلق تحریر فرمایا۔جبی فی اللہ منشی احمد جان صاحب مرحوم اس وقت ایک نہایت غم سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ یہ پر درد قصہ مجھے لکھنا پڑا کہ اب یہ ہمارا دوست اس عالم میں موجود نہیں ہے۔اور خداوند کریم درحیم نے بہشت بریں کی طرف بلالیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ وانا بفراقه لمحزونون۔حاجی صاحب مغفور و مرحوم ایک جماعت کثیر کے پیشوا تھے اور ان کے مریدوں میں آثار رشد و سعادت و اتباع سنت نمایاں ہیں اگر چہ حضرت موصوف اس عاجز کے شروع سلسلہ بیعت سے پہلے ہی وفات پاچکے لیکن یہ امران کے خوارق میں سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے بیت اللہ کے قصد سے چند روز پہلے اس عاجز کو ایک خط ایسے انکسار سے لکھا جس میں انہوں نے در حقیقت اپنے تئیں اپنے دل میں سلسلہ بیعت میں داخل کر لیا۔چنانچہ انہوں نے اس میں سیرۃ صالحین پر اپنا تو بہ کا اظہار کیا اور اپنی مغفرت کے لئے دعا چاہی اور لکھا کہ میں آپ کے علی ربط کے زیر سایہ اپنے تئیں سمجھتا ہوں اور پھر لکھا کہ میری زندگی کا نہایت عمدہ حصہ یہی ہے کہ میں آپ کی جماعت میں داخل ہو گیا ہوں اور پھر کسر نفسی کے طور پر اپنے گذشتہ ایام کا شکوہ لکھا اور بہت سے رقت آمیز ایسے کلمات لکھے جن سے رونا آتا تھا۔اس دوست کاره آخری خط جو ایک دردناک بیان سے بھرا ہوا ہے اب تک موجود ہے مگر افسوس کہ حج بیت اللہ سے واپس آتے وقت پھر اس مخدوم پر بیماری کا ایسا غلبہ طاری ہوا کہ اس دور افتادہ کو ملاقات کا اتفاق نہ ہوا بلکہ چند روز کے بعد ہی وفات کی خبر سنی گئی اور خبر سنتے ہی ایک