تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 266
تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۱۶۵ نشان نمائی کی عالمگیر دعوت کے ہاتھ بحضور دل اٹھا کر گزارش کریں"۔نیز یہ ہدایت فرمائی کہ " آپ پر فرض ہے کہ انہیں الفاظ سے بلا تبدیل و تغیر بیت اللہ میں حضرت ارحم الراحمین میں اس عاجز کی طرف سے دعا کریں " چنانچہ حضرت صوفی صاحب نے حضرت کے ارشاد کے تعمیل میں یہ دعا بیت اللہ شریف میں بھی اور پھر 9- ذی الحجہ ۱۳۰۲ھ کو (بمطابق ۱۹ ستمبر ۱۸۸۵ء) میدان عرفات میں بھی پڑھی۔آپ کے پیچھے اس وقت ان کے ۲۲/۲۰ خدام اور عقیدت مند تھے جن میں حضرت شہزادہ عبدالمجید صاحب مبلغ ایران حضرت خان صاحب محمد امیر خاں صاحب اور حضرت قاضی زین العابدین صاحب سرہندی اور حضرت صوفی صاحب کے فرزند حضرت صاحبزادہ پیر افتخار احمد صاحب بھی شامل تھے۔صوفی صاحب میدان عرفات میں حضرت مسیح موعود کا مکتوب مبارک ہاتھ میں لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا میں یہ خط بلند آواز سے پڑھتا ہوں تم سب آمین کہتے جاؤ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔اس تاریخی دعا کے الفاظ یہ تھے۔ا ارحم الراحمین ایک تیرا بندہ عاجز اور ناکارہ پر خطا اور نالائق غلام احمد جو تیری زمین ملک ہند میں ہے اسکی یہ عرض ہے کہ اے ارحم الراحمین تو مجھ سے راضی ہو اور میری خطیات اور گناہوں کو بخش کہ تو غفور و رحیم ہے اور مجھ سے وہ کام کر جس سے تو بہت ہی راضی ہو جائے مجھ میں اور میرے نفس میں مشرق اور مغرب کی دوری ڈال اور میری زندگی اور میری موت اور میری ہر یک قوت اور جو مجھے حاصل ہے اپنی ہی راہ میں کر اور اپنی ہی محبت میں مجھے زندہ رکھ اور اپنی ہی محبت میں مجھے مار اور اپنے ہی کامل متبعین میں مجھے اٹھا۔اے ارحم الراحمین جس کام کی اشاعت کے لئے تو نے مجھے مامور کیا ہے اور جس خدمت کے لئے تو نے میرے دل میں جوش ڈالا ہے اس کو اپنے ہی فضل سے انجام تک پہنچا اور اس عاجز کے ہاتھ سے حجت اسلام مخالفین پر اور ان سب پر جو اب تک اسلام کی خوبیوں سے بے خبر ہیں پوری کر اور اس عاجز اور اس عاجز کے تمام دوستوں اور مخلصوں اور ہم مشربوں کو مغفرت اور مہربانی کی نظر سے اپنے ظل حمایت میں رکھ کر دین و دنیا میں آپ ان کا متکفل اور متولی ہو جا اور سب کو اپنی دارالرضاء میں پہنچا اور اپنے نبی اللہ اور اس کی آل اور اصحاب پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام و برکات نازل کر - آمین یا رب العالمین" حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سفر لدھیانہ اور حضرت صوفی احمد جان صاحب کی وفات حضرت صوفی احمد جان صاحب زیارت کعبہ اور حج بیت اللہ شریف کے برکات سے فیضیاب ہو کر