تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 262
تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۶۱ نشان نمائی کی عالمگیر دعوت التیام لیکھرام ولد پنڈت تارا سنگھ شرما مصنف تکذیب براہین احمدیہ ور سالہ ہذا اقرار صحیح بدرستی ہوش و حواس کر کے کہتا ہوں کہ میں نے اول سے آخر تک رسالہ سرمہ چشم آریہ کو پڑھ لیا۔میں اپنے جگت پتا پر میشور کو ساکھی جان کر اقرار کرتا ہوں کہ۔۔۔۔۔۔۔اس سرٹی کے آغاز میں جب انسانی خلقت شروع ہوئی پر ماتما نے دیدوں کو شرعی اگنی شری وایو شری آدت شری انگرہ جیو چار رشیوں کے آتماؤں میں الہام دیا مگر جبرئیل یا کسی اور چھٹی رسان کی معرفت نہیں بلکہ خودی۔۔۔آریہ ورت سے ہی تمام دنیا نے فضیلت سیکھی۔آریہ لوگ ہی سب کے استاد اول ہیں۔کیونکہ تواریخ سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔آریہ ورت سے باہر جو بقول مسلمانوں کے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر ( ۵-۶ ہزار سال میں آئے ہیں اور توریت زبور انجیل - قرآن وغیرہ کتب لائے ہیں میں ولی یقین سے ان ہستکوں کے مطالعہ کرنے سے اور سمجھنے سے (باستثنائے ان باتوں کے جو دید مقدس اپ شدوں یا شاستروں میں درج ہیں) ان کی تمام مذہبی ہدایتوں کو بناوٹی اور جعلی۔اصلی الہام کو بد نام کرنے والی تحریر میں خیال کرتا تحریریں۔۔لیکن میرا دوسرا فریق مرزا غلام احمد ہے وہ قرآن کو خدا کا کلام جانتا ہے اور اس کی سب تعلیموں کو درست اور صحیح سمجھتا ہے اے پر میشور ہم دونوں فریقوں میں سچا فیصلہ کر۔۔۔کیونکہ کا ذب صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پاسکتا " - 1 گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر لیکھرام کے متعلق بعض انکشاف ہو چکے تھے اور لیکھرام نے ہو اس کی اشاعت پر بھی پابندی نہیں لگائی تھی مگر آپ الہی منشاء کے ماتحت پانچ برس تک اس بارہ میں بالکل خاموش رہے اور پھر اذن خداوندی پا کر ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء کو آپ نے لیکھرام کے عبرتناک انجام کے متعلق پیشگوئی کا اعلان فرما دیا۔جس کے مطابق وہ ۶ - مارچ ۱۸۹۷ء کو رب العرش خیر الماکرین کی پر اسرار تدبیر کے تحت لاہور میں قتل ہوا۔اور اس کی زبان جو خنجر کی طرح چلتی تھی تیغ محمدی میں متشکل ہو کر اس کے پارہ پارہ کرنے کی موجب بن گئی۔مگر اس کے بیان کا یہ موقعہ نہیں۔اس عظیم الشان نشان کی تفصیل ۱۸۹۷ء کے واقعات میں آئے گی۔پادری سوفٹ کا گریز تیرے صاحب جنہوں نے حضرت مسیح موعود کی دعوت پر قادیان آنے اور نشان دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا پادری سوفٹ تھے جو ریاست گوالیار کے باشندے اور عیسائی مدرسہ الہیات (سہارنپور) سے فارغ التحصیل ہو کر ان دنوں گوجرانوالہ میں متعین تھے۔انہیں دوسرے پادریوں کی نسبت مسیحی دینیات کا بڑا ناز تھا حضرت اقدس کی دعوت نشان نمائی پر انہوں نے بذریعہ ڈاک ایک خط لکھا جس میں حضرت مسیح کی خدائی کا لاطائل فسانہ چھیڑنے کے بعد دعوت کو نمائشی رنگ میں قبول کرتے ہوئے دو شرائط لکھیں جن میں پہلی