تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 259
تاریخ احمدیت جلدا ۲۵۸ نشان نمائی کی عالمگیر دعوت مشغلہ بن چکا تھا اس کی مقدس تعلیمات پر نشتر چلانے میں اسے ایک خاص لذت محسوس ہوتی تھی چنانچہ اب جو حضور نے نشان نمائی کی عالمگیر دعوت دی تو مرزا امام الدین نے منشی اندر من مراد آبادی اور پنڈت لیکھرام اور دوسرے دشمنان دین کی پیٹھ ٹھونکتے اور محض زبانی بیہودہ گوئی پر اکتفانہ کرتے ہوئے اگست ۱۸۸۵ء میں ”قانونی ہند پریس" اور "چشمہ نور امرت سر سے آپ کے خلاف نهایت گندے اشتہار شائع کئے۔نیز جب حضرت اقدس نے پنڈت لیکھرام کو قادیان آنے کی دعوت دی تو حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی تحقیق کے مطابق) یہ معاند اسلام خود گیا اور پنڈت لیکھرام کو قادیان لے آیا۔پنڈت لیکھرام کو بظاہر حضرت مسیح موعود کی دعوت پر آیا اور اسے شرائط طے کرنے کے لئے حضرت اقدس سے بہر حال ملاقات کرنا چاہیے تھی مگر مرزا امام الدین وغیرہ کو جو محض اپنے ذوق بے دینی کی تسکین کے لئے تماشائی بنے ہوئے تھے۔لیکھرام کا اظہار خیالات کے لئے حضرت اقدس کی مجلس میں جانا کیو نکر پسند ہو سکتا تھا۔چنانچہ مرزا امام الدین نے لیکھرام کو اپنے اشاروں کے مطابق چلانے کے لئے یہ مکروہ چال چلی کہ وہ اپنے لگے بندھے بعض نام نہاد مسلمانوں مثلاً ملاں حسیناں اور مراد علی وغیرہ کے ساتھ آریہ سماج میں داخل ہو گئے اور یوں خود مسلمانوں ہی کے ہاتھوں قادیان آریہ سماج کی توسیع ہوئی۔لیکھرام جب اس طرح مرزا امام الدین کے دام تزویر میں الجھ گیا تو اسے ہر جھوٹے اور مکروہ پرو پیگنڈے کا شکار بنانا چنداں مشکل نہ تھا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا امام الدین اور مقامی ہندوؤں کی فتنہ انگیزی سے حضرت اقدس کے خلاف لیکھرام میں دشمنی اور بغض و کینہ کے جذبات ہر لمحہ شدید تر ہو گئے۔حالانکہ ابتداء میں اس کی حالت اتنی خطرناک نہیں تھی۔یہ تبدیلی قادیان آنے کے بعد پیدا ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود فرماتے ہیں۔” قادیان کے بعض شریر الطبع لوگوں نے اس کے دل کو خراب کر دیا اور میری نسبت بھی ان نالائق ہندوؤں نے بہت کچھ جھوٹی باتیں اس کو سنائیں تا وہ میری صحبت سے متنفر ہو جائے پس ان بد صحبتوں کی وجہ سے روز بروز وہ ردی حالت کی طرف گر تا گیا مگر جہاں تک میرا خیال ہے ابتداء میں اس کی ایسی ردی حالت نہ تھی صرف مذہبی جوش تھا جو ہر اہل مذہب حق رکھتا ہے کہ اپنے مذہب کی پابندی میں پابندی حق پرستی و انصاف بحث کرے۔بہر حال لیکھرام کے ماحول پر مرزا امام الدین اور قادیان کے ہندو پوری طرح چھائے ہوئے تھے اس لئے وہ حضرت اقدس کی خدمت میں ملاقات کے لئے تو نہ آیا البتہ اس نے نہایت شوخی اور بے باکی کے رنگ میں حضرت اقدس سے سلسلہ خط و کتابت شروع کر دیا۔یہ خط و کتابت اکثر بھائی کشن سنگھ اور گاہے گاہے پنڈت موہن لال ، پنڈت نہال چند اور حکم دیا رام کے ذریعہ سے ہوتی تھی۔پنڈت موہن لال کا بیان ہے کہ حضرت صاحب بڑی مہربانی فرماتے تھے اور ہنستے