تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 250 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 250

تاریخ احمدیت جلدا پیشگوئی مخفی ہوتی ہے "۔ایک نہایت مبارک اور مقدس خاندان کی بنیاد جماعت کے بزرگ حضرت اقدس کی زندگی میں آپ کو ام المومنین " کہتے تھے۔ایک دفعہ مخالف حلقوں میں آپ کے ام المومنین " کہلانے پر طنز کیا گیا تو حضور نے فرمایا۔"نبوں یا ان کے اظلال کی بیویاں اگر امہات المومنین نہیں ہوتی ہیں تو کیا ہوتی ہیں ؟ خدا تعالیٰ کی سنت اور قانون قدرت کا اس تعامل سے بھی پتہ لگتا ہے کہ کبھی کسی نبی کی بیوی سے کسی نے شادی نہیں کی ہم کہتے ہیں ان لوگوں سے جو اعتراض کرتے ہیں کہ ام المومنین کیوں کہتے ہو پوچھنا چاہیے کہ تم بتاؤ جو مسیح موعود تمہارے ذہن میں ہے اور جسے تم سمجھتے ہو کہ وہ آکر نکاح بھی کرے گا کیا اس کی بیوی کو تم ام المومنین کہو گے یا نہیں ؟ مسلم میں تو مسیح موعود کو نبی ہی کہا گیا۔اور قرآن شریف میں انبیاء علیہم السلام کی بیویوں کو مومنوں کی مائیں قرار دیا ہے"۔۱۹۰۵ء کے آخر میں اللہ تعالٰی کے حکم سے جماعت کے برگزیدہ لوگوں کی آخری آرام گاہ کے لئے "بہشتی مقبرہ " کا قیام عمل میں لایا گیا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت ام المومنین اور اپنی مبشر اولاد کے متعلق وصیت فرمائی کہ میری نسبت اور میرے اہل وعیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے باقی ہر ایک مرد ہو یا عورت ہو ان کو ان شرائط کی پابندی لازم ہوگی۔اور شکایت کرنے والا منافق ہو 10-"6 حضرت ام المومنین اٹھارہ سال کی عمر میں نومبر ۱۸۸۴ء میں قادیان آئیں اور حضرت کے ہر دعوی اور ہر بات پر غیر متزلزل ایمان لائیں اور جیسا کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے اپنی سیرت مسیح موعود میں لکھا ہے۔سخت سے سخت بیماریوں اور اضطراب کے وقتوں میں جیسا اعتماد انہیں حضرت کی دعا پر ہے کسی چیز پر نہیں۔وہ ہر بات میں حضرت کو صادق و مصدوق مانتی ہیں جیسے کوئی جلیل سے جلیل اصحابی مانتا ہے"۔حضرت سیدۃ النساء حضرت اقدس کی بشارتوں سے خوش ہوتیں اور انذارات سے ترساں و لرزاں ہوتی تھیں اور حضرت اقدس کے مشن کی تکمیل اور جماعت کی ترقی بہبود اور غمگساری کے لئے تو ہمہ اوقات وقف اور سر تا پا عمل و ج اد بنی رہیں۔حضرت اقدس کا وصال ۱۹۰۸ء میں ہوا اور جماعت غیبی مصلحتوں کے مطابق خدا کے جری پہلوان اور افواج اسلام کے سپہ سالار کی براہ راست قیادت سے محروم ہو گئی مگر ان کی بدولت حضرت اقدس کے انوار و برکات کا سایہ انتالیس سال تک قادیان میں اور پانچ سال تک پاکستان میں ممتد ہو گیا۔بلکہ دراصل خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی ان کے وجود میں زندہ رہے۔بالاخر ۲۱۲۰۔اپریل ۱۹۵۲ء ساڑھے گیارہ بجے شب آپ کی روح بھی قفس عنصری سے پرواز کر گئی اور جماعت مسیح موعود کی یہ مقدس