تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 249
تاریخ احمد بیت۔جلدا ۳۴۸ ایک نہایت مبارک اور مقدس خاندان کی بنیاد حضرت صاجزادہ مرزا بشیر صاحب ایم۔اے سلمہ ربہ (ولادت ۲۰- اپریل ۱۸۹۳ء طلوع آفتاب کے بعد) حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب (ولادت ۲۴- مئی ۱۸۹۵ء طلوع آفتاب سے قبل) حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ (ولادت ۲ مارچ ۱۸۹۷ء پہلی رات کے نصف اول میں) - حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب (ولادت سہ پہر کے وقت ۱۴- جون ۱۸۹۹ء وفات ۱۷ ستمبر۷ ۱۹۰ء) -4 -/+ صاجزادی سیدہ امته النصیر (ولادت ۲۸ جنوری ۶۱۹۰۳- وفات ۳- دسمبر ۱۹۰۳ء) حضرت صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ (ولادت ۲۵ جون ۱۹۰۴ء۔عشاء کے بعد ) مبارک نسل کے اس خدائی وعدہ کے علاوہ جو ۱۸۸۶ء میں عمومی رنگ میں حضرت مسیح موعود کو دیا گیا آپ کا ہر بچہ قبل از وقت الهامی اطلاع اور بھاری آسمانی بشارتوں کے ماتحت پیدا ہوا۔حضور خود فرماتے ہیں۔” ہر ایک لڑکا جو میرے گھر میں اس بیوی سے پیدا ہوا موعود ہے "۔اور اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت ام المؤمنین کو شعائر اللہ یقین کرتے۔ان کی دلداری کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ " ایک دن کا ذکر ہے کہ کسی دیوار کے متعلق حضرت ام المومنین کی رائے تھی کہ یوں بنائی جائے اور مولوی عبد الکریم رضی اللہ عنہ کی رائے اس کے خلاف تھی چنانچہ مولوی صاحب موصوف نے حضرت اقدس سے عرض کیا تو آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے لڑکوں کی بشارت دی اور وہ اس بی بی کے بطن سے پیدا ہوئے اس لئے میں اسے شعائر اللہ سے سمجھ کر اس کی خاطر داری رکھتا ہوں اور جو رہ کے مان لیتا ہوں"۔حضرت کو اپنی بصیرت اور باطنی قوتوں کی بناء پر آپ کے نام " نصرت جہاں بیگم " میں بھی خدائی نصرتوں کے انوار نظر آتے تھے اور آپ فرماتے تھے: چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا۔اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہو گا۔اس لئے اس نے پسند کیا کہ اس خاندان ( میر درد - ناقل) کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جو ان نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخمریزی ہوئی ہے دنیا میں پھیلا دے اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام شہر بانو تھا اسی طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی ہے یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی اس کی