تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 247
تاریخ احمدیت جلدا ایک نہایت مبارک اور مقدس خاندان کی بنیاد حضرت ام المومنین تو ایسی جگہ تشریف لائی تھیں جہاں ہر طرف بیگانے ہی بیگانے تھے۔اور حضرت مسیح موعود کی پہلی خوشدامن محترمہ چراغ بی بی صاحبہ کے سوا باقی سب رشتہ دار شدید مخالف اور بالخصوص اس دوسری شادی پر طیش میں آئے ہوئے تھے۔زبان - طرز معاشرت اور ماحول بھی بالکل نئے تھے۔پھر کجا دلی جیسا با رونق اور پینتالیس میل کی وسعتوں کو محیط ایک شاندار اور بارونق تاریخی شهر اور کجا دنیا کی آبادی سے دور ایک گمنام سا گاؤں نہ لال قلعہ نہ شاہی محلات نہ بلند و بالا مساجد - نہ پر شکوہ اور سمر بلک عمارتیں نہ بلند و بالا مینار - نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت نصرت جہاں بیگم اس عالم تنہائی میں سخت گبھرا گئیں۔چنانچہ حضرت نواب مبارکہ بیگم کا بیان ہے کہ اماں جان نے ایک دفعہ ذکر فرمایا جب تمہارے ابا مجھے بیاہ کر لائے تو یہاں سب کنبہ سخت مخالف تھا۔دو چار خادم مرد تھے۔گھر میں عورت کوئی نہ تھی صرف میرے ساتھ فاطمہ بیگم تھیں۔وہ کسی کی زبان نہ سمجھتی تھیں نہ ان کی کوئی سمجھے۔شام کا وقت بلکہ رات تھی جب ہم پہنچے۔تنہائی کا عالم ، بیگانہ وطن - دل کی عجیب حالت تھی۔اور روتے روتے میرا برا حال ہو گیا تھا۔نہ کوئی اپنا تسلی دینے والا نہ منہ دھلانے والا نہ کھلانے پلانے والا کنبہ نہ ناطہ - اکیلی حیرانی پریشانی میں آن کر اتری۔کمرے میں ایک کھری چارپائی پڑی تھی جس کی پائینتی پر ایک کپڑا پڑا تھا۔اس پر تھکی ہاری جو پڑی ہوں تو صبح ہو گئی۔یہ اس زمانہ کی ملکہ دو جہان کا بستر عروسی تھا اور سسرال کے گھر میں پہلی رات تھی۔مگر خدا کی رحمت کے فرشتے پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ "اے کھری چارپائی پر سونے والی پہلے دن کی دلہن دیکھ تو سی دو جہان کی نعمتیں ہوں گی اور تو ہو گی بلکہ ایک دن تاج شاہی تیرے خادموں سے لگے ہوں گے انشاء الله اصبح حضرت مسیح موعود نے ایک خادمہ کو بلوا دیا اور گھر میں آرام کا سب بند و بست کر دیا "۔بایں ہمہ حضرت ام المومنین طبعی طور پر ایک اجنبی ماحول دیکھ کر سخت حزن و ملال میں مبتلا ہو گئیں اور آشفتگی میں انہوں نے دلی خط لکھے کہ " میں سخت گبھرائی ہوئی ہوں اور شاید میں اسی غم اور گبھراہٹ سے مرجاؤں گی۔ان خطوط کا پہنچا تھا کہ حضرت میر صاحب کے خاندان نے اور اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی۔اور کہا کہ اگر آدمی نیک تھا تو اس کی نیکی کی وجہ سے لڑکی کی عمر کیوں تباہ کی۔یہ صورت حال دیکھ کر حضرت میر صاحب اور حضرت نانی اماں بھی کچھ گھبرا گئے۔چنانچہ رخصتانہ سے ایک مہینہ کے بعد حضرت میر صاحب قادیان آئے اور حضرت ام المومنین کو دلی لے گئے جب وہ دلی پہنچے تو حضرت نانی اماں نے فاطمہ بیگم سے پوچھا کہ لڑکی کیسی رہی؟ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہت تعریف کی اور کہا کہ لڑکی یونہی شروع شروع میں اجنبیت کی وجہ سے گھبرا گئی ہو گی۔ورنہ مرزا صاحب نے ان کو بہت ہی اچھی طرح سے رکھا ہے اور بہت اچھے آدمی ہیں۔خود حضرت ام المومنین نے بھی بتایا کہ