تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 243 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 243

تاریخ احمدیت جلدا ایک نہایت مبارک اور مقدس خاندان کی بنیاد دوسری شادی ، مبشر اولاد اور ایک نہایت مبارک اور مقدس خاندان کی بنیاد دنیا میں اسلام کے عالمگیر نظام روحانی کے قیام اور امام عصر حاضر کے لائے ہوئے آسمانی انوار و برکات کو جہان بھر میں پھیلا دینے کے لئے ازل سے یہ مقدر تھا کہ ہندوستان کے صوفی مرتاض اور ولی کامل حضرت خواجہ محمد ناصر کی نسل سے ایک پاک خاتون مهدی موعود کی عقد زوجیت میں آئیگی جس کے نتیجہ میں ایک نہایت مبارک اور مقدس خاندان کی بنیاد رکھی جائے گی جو خدا کے دین کا جھنڈا بلند کر کے کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گا اور نہایت شان و شوکت سے قیامت تک سرسبز رہے گا۔چنانچہ اٹھارھویں صدی کے آغاز میں خود حضرت خواجہ محمد ناصر رحمتہ اللہ علیہ (ولادت ۱۶۹۳ء وفات ۲۹- اپریل ۱۷۵۸ء) کو برسوں کی سخت ریاضتوں اور مجاہدات کے بعد ایک مکاشفہ میں حضرت امام حسین کی روح نے خبر دی کہ ” نانا جان نے مجھے خاص اس لئے تیرے پاس بھیجا تھا کہ میں تجھے معرفت اور ولایت سے مالا مال کر دوں۔یہ ایک خاص نعمت تھی جو خانوادہ نبوت نے تیرے واسطے محفوظ رکھی تھی۔اس کی ابتداء تجھ پر ہوتی ہے اور انجام اس کا مہدی علیہ الصلوۃ والسلام پر ہو گا " 1 سو جب اس موعود نعمت کے عطا ہونے کا وقت قریب آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بار بار اطلاع دی کہ ہم تیرے اب وجد کے سلسلے کو منقطع کر کے تجھے سے ایک نئی نسل اور نئے خاندان کی ابتدا کرنے والے ہیں بلکہ آپ کو قبل از وقت یہ بھی بتا دیا گیا کہ آپ کی یہ دوسری شادی دلی کے ایک مشہور سادات خاندان میں مقدر ہے۔حضرت ایک عرصہ سے عملاً تجرد کی زندگی بسر کر رہے تھے۔اور مسلسل علمی مشاغل شب بیداری کے باعث ضعف قلب و دماغ ذیا بیطس اور دوران سر و غیرہ امراض سے طبیعت انتہا درجہ کمزور ہو چکی تھی۔عمر پچاس سال تک پہنچ رہی تھی جو ہمارے ملک کی اوسط عمر کے مطابق پیرانہ سالی میں شمار ہوتی ہے اور اقتصادی مشکلات اور اہل خاندان کی مخالفت الگ ایک مستقل مصیبت تھی ان حالات میں جب کہ شادی کی راہ میں قدم قدم