تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 8
تاریخ احمدیت جلدا A سلسلہ احمدیہ کا تعارف پیتالیس ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔پس مسلم بلاک کے قیام کے معنی صرف یہ ہوئے کہ اسلام ربع مسکون کی صرف چھٹے یا ساتویں حصہ آبادی پر حکمران ہو سکے گا۔اس صورت میں رسول خدا اور قرآن کے عالمگیر غلبہ کی یہ کوئی خوشکن تعبیر نہیں قرار دی جاسکتی ہے۔لکھا اس کے مقابل ( حضرت امام جماعت احمد یہ ایدہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا میں آکر یہ اصول پیش فرمایا کہ تمہارا یہ مطمع نظر نہایت ادنی ہے۔تمہیں اپنے افکار کو بلند کرنا چاہئے کہ تمہارا کیا منصب ہے اور کون سا کام ہے جو خدا نے تمہارے سپرد کیا ہے۔بے شک سیاست کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کی اصلاح ضروری ہے۔بے شک دولت کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کو ترقی کی ضرورت ہے۔مگر محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی غرض یہ تھی کہ اسلام کو روحانی طور پر دنیا پر غالب کیا جائے۔اب اس کی تشریح کرو۔اس عظیم الشان مقصد کے معنی یہ بن جاتے ہیں کہ اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کی عظمت کے دلائل اتنی طاقت پکڑ جائیں کہ مسلمانوں کے ساتھ باتیں کرتے وقت وہ کنی کترانے لگیں۔آج یورپ میں جو بھی لٹریچر شائع ہوتا ہے اس میں یہ آ ہوتا ہے کہ اسلام میں فلاں نقص ہے اور فلاں خرابی ہے۔لیکن کل اسلام کو ایسا غلبہ حاصل ہو کہ یورپ کے رہنے والے اپنی کتابوں میں یہ لکھیں کہ اسلام میں فلاں بات بہت اعلیٰ ہے مگر عیسائیت اس سے بالکل خالی۔۔۔آج کا مغرب زدہ مسلمان یورپ کی ڈیما کریسی کو دیکھ کر کہتا ہے کہ قرآن سے بھی کچھ کچھ ایسے اصول ثابت ہوتے ہیں اور یہ خوبی ہمارے اندر بھی پائی جاتی ہے۔یہ اپالوجی (Apalogy) ہے جو آج کا مسلمان پیش کر رہا ہے اور یہ اسلام کے لئے فخر کارن نہیں۔اسلام کے لئے فخر کا دن وہ ہو گا جب یورپ اور امریکہ میں یہ کہا جائے گا کہ یہ اسلامی پر دہ جو مسلمان پیش کرتے ہیں اس کی کچھ کچھ انجیل سے بھی تائید ہوتی ہے اور ہمارے مسیح نے بھی جو فلاں بات کہی ہے اس سے کی ثابت ہوتا ہے کہ اس قسم کا پردہ ہونا چاہئے اسلام کے لئے فخر کارن وہ ہو گا جب یورپ اور امریکہ کا عیسائی اپنی تقریروں میں یہ کہے گا کہ کثرت ازدواج کا مسئلہ جو مسلمان پیش کرتے ہیں بے شک یہ بڑا اچھا مسئلہ ہے اور عیسائیوں نے کسی زمانہ میں اس کے خلاف بھی کہا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے پوری طرح غور نہیں کیا تھا۔اصل بات یہ ہے کہ عیسائیت کے وہ بزرگ جو پہلی صدی میں گذرے ہین انہوں نے بھی دو دو تین تین شادیاں کی ہیں۔پس کثرت ازدواج کی خوبی صرف اسلام میں ہی نہیں بلکہ عیسائیت میں بھی پائی جاتی ہے۔جس دن یورپ اور امریکہ کے گرجوں میں کھڑا ہو کر ایک پادری اپنے مذہب کی اس رنگ میں خوبیاں بیان کرے گا وہ دن ہو گا جب ہم کہیں گے کہ آج اسلام دنیا پر غالب آگیا اب ہمیں اپالوجی (Apalogy) کی ضرورت نہیں۔اب دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ یہ خوبیاں