تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 238
تاریخ احمدیت جلدا ۲۳۷ حضرت اقدس کا پہلا سفر لدھیانہ نے اس امر پر لطیف روشنی ڈالی کہ ایمان اور یقین لانے کا فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ کچھ اخفاء بھی ہو اگر معاملہ ایسا صاف اور روشن ہو جائے جیسا کہ نصف النہار کے وقت ہوتا ہے اس وقت ایمان لانے کا ثواب نہیں ہو تا۔اجر اسی وقت ہے کہ یومِنُونَ بِالْغَیب کے مطابق کچھ غیبوبت بھی ہو اور ایمان لایا جائے ایک دن کسی شخص کے سوال پر حضور نے مسئلہ توحید پر تقریر فرمائی جو کئی گھنٹے تک جاری رہی۔حضور کی اعجازی تقریروں میں روحانیت کا دریا بہتا ہوا نظر آتا تھا اور کسی کو آج تک ان آسمانی علوم و حقائق و نکات سننے یا پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔اسی دوران میں شہر کے بعض علماء مثلاً مولوی عبد القادر صاحب نے بھری مجلس میں حضور سے استدعا کی کہ حضور ان کی بیعت قبول فرمائیں۔مگر حضور نے بلا تامل جواب دیا - لست بما مور میں مامور نہیں ہوں) اور پھر اس مجلس میں ٹھہرنا ہی گوارا نہ فرمایا۔اور فور ابا ہر سیر کے لئے چل دئیے۔حضرت کے اس طرز جواب پر آپ کے ارادتمند دل مسوس کر رہ گئے۔مگر جواب مختصر ہونے کے باوجود ہر پہلو سے مکمل تھا اس لئے پھر کسی کو آپ کے سامنے بیعت کی درخواست کرنے کی جرات نہیں ہو سکی۔حضرت صوفی احمد جان صاحب اور میر عباس علی صاحب نے بعد کو مولوی عبد القادر صاحب سے کہا آپ بہت سادہ ہیں ایسی بات علیحدگی میں کرنا چاہیے تھی۔قیام لدھیانہ کے دوران میں حضرت اقدس اپنے معمول کے مطابق اکثر لدھیانہ میں معمول میر کو بھی تشریف لے جاتے تھے ایک مرتبہ جنگل میں نماز عصر کا وقت آگیا۔عرض کیا گیا نماز کا وقت ہو گیا ہے آپ نے فرمایا بہت اچھا نہیں پڑھ لیں۔غرض وہیں مولوی عبد القادر صاحب نے نماز پڑھائی۔ٹمپرنس سوسائٹی میں تقریر کرنے سے انکار لدھیانہ میں ٹمپرنس سوسائٹی کا جلسہ تھا جس میں حضور نے بھی شرکت فرمائی۔مختلف فرقوں کے لوگ جمع تھے حاضرین نے آپ سے تقریر کے لئے پر زور درخواست کی مگر آپ نے منظور نہ فرمایا۔جب اپنی قیام گاہ پر تشریف لائے اور آپ سے انکار کی بابت پوچھا گیا تو فرمایا اگر میں تقریر کرتا تو ضرور تھا کہ میں بیان کرتا کہ شراب سے روکنے والوں کے سردار محمد رسول اللہ اللہ ہیں جن کے ذکر کی یہ لوگ اجازت نہ دیتے اور میری کیفیت یہ ہے کہ میں اس تقریر کو جس میں میرے آقا کا نام لیا جانے کی اجازت نہ ہو پسند نہیں کرتا۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام تین چار روز تک علم و عرفان کی بارش برساتے اور اہل واپسی لدھیانہ کی روحانی تشنگی بجھاتے ہوئے واپس قادیان تشریف لے گئے۔