تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 7
تاریخ احمدیت۔جلدا سلسلہ احمدیہ کا تعارف روک نہ سکا۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب اس کی فوجوں کی یہ حالت ہے کہ یورپ کی طاقتیں اس کی قوت سے خوف کھاتیں اور اس کے حملہ سے ڈرتی رہتی ہیں"۔او رنا سے لے کر پشاور تک کا علاقہ اسلامی حکومتوں کے زیر سایہ ہے۔ان سب کا عقیدہ ایک ہے ان کو ایک مرکز پر جمع کرنے والا قرآن موجود ہے۔ان کی تعداد آٹھ کروڑ سے کسی طرح کم نہیں ہے۔دنیا کی تمام قوموں میں شجاعت اور بسالت کے لحاظ سے ان کا درجہ ممتاز ہے۔کیا ان کے لئے یہ ممکن 35 نہیں ہے کہ وہ مدافعت اور اقدام کے لئے متحد ہو جائیں جس طرح کہ تمام قو میں متحد ہو چکی ہیں"۔"میرے اس کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ ان تمام امور میں ایک شخص واحد ہی کا حکم چلا کرے۔کیونکہ اکثر حالتوں میں یہ ایک نہایت مشکل کام ہو گا۔لیکن میں چاہتا ہوں کہ ان سب پر قرآن ہی کی حکومت ہو اور وہ اتحاد کا ذریعہ اپنے دین کو بنا ئیں۔ہر ملک کی حکومت اپنے ہم مذہب دوسری حکومت کی حفاظت کی تاحد مقدور کوشش کرتی رہے۔کیونکہ ایک کی زندگی دوسرے کی زندگی اور ایک کی بقاء دوسرے کی بقاء پر منحصر ہے۔اس سے خبردار رہو کہ یہ ان کے دین کی اساس و بنیاد ہے جس سے خاص کر موجودہ زمانے میں اجتماعی ضرورتیں اور سیاسی احتیاجیں پوری ہوتی ہیں"۔تحریک کی افادیت و اہمیت سے کوئی انکار نہیں مگر مندرجہ بالا الفاظ نماز ہیں کہ اسکے پیچھے محض مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کا جذبہ کام کر رہا ہے اور فقط مسلمانوں کی ”سیاسی احتیاجیں " مد نظر ہیں۔پس یہ کہنا بے جانہ ہو گا کہ یہ ایک خالص سیاسی تحریک ہے جو مغربی طاقتوں کے ردعمل کے طور پر پیدا ہوئی ہے۔بلا شبہ یہ تحریک اس خیال کی بھی علمبردار ہے کہ سب مسلمانوں پر قرآن ہی کی حکومت ہو اور وہ اتحاد کا ذریعہ اپنے دین کو بنا ئیں"۔اسلامی تنظیم کے لئے ایک قابل اطاعت مرکزی شخصیت کا ہونا ضروری ہے۔مگر اس بارے میں بانی تحریک ہی کی رائے ہے کہ ”میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ تمام امور میں ایک شخص واحد ہی کا حکم چلا کرے یہ ایک نہایت مشکل کام ہو گا “۔علاوہ ازیں اس کی منزل صرف یہ تجویز کی گئی ہے کہ اسلامی ملک اپنا ایک مستقل بلاک قائم کرلیں۔حالانکہ یہ کوئی ایسا مقصد حیات نہیں کہ جس پر کوئی درد مند مسلمان روحانی لحاظ سے کوئی فخر محسوس کر سکے۔مادی اور سیاسی نقطہ نگاہ سے اس کی اہمیت مسلم ہے۔مگر بہر حال اسے مسلم قوم کا مطمع نظر قرار دینا ظلم ہو گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلم ممالک کی سیاسی ترقی اور سیاسی اتحاد ایک ضروری چیز ہے جسے موجودہ زمانے میں نظر انداز کرنے کے معنی قومی خود کشی کے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ مطمع نظر ایسا ہو سکتا ہے جس سے مسلمان نوجوانوں کی رگوں میں نیا خون دوڑنے لگے ؟ دنیا کی موجودہ آبادی قریبا دو ارب اکتیس کروڑ نوے لاکھ انیس ہزار ہے جن میں مسلمانان عالم کی تعداد کم و بیش چونتیس کروڑستادن لاکھ