تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 6
تاریخ احمدیت۔جلدا سلسلہ احمدیہ پانی ہے (یعنی خدا کی وحی ) وہ سفلی عقلوں کو تازگی بخشتا ہے۔سو یہ زمانہ بھی اس روحانی پانی کا محتاج تھا۔میں اپنے دعوئی کی نسبت اس قدر بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں مین ضرورت کے وقت خدا تعالٰی کی طرف سے بھیجا گیا ہوں جبکہ اس زمانہ میں بہتوں نے یہود کا رنگ پکڑا۔اور نہ صرف تقویٰ اور طہارت کو چھوڑا بلکہ ان یہود کی طرح جو حضرت عیسی کے وقت تھے سچائی کے دشمن ہو گئے۔تب بالمقابل خدا نے میرا نام مسیح رکھ دیا۔نہ صرف یہ کہ میں اس زمانہ کے لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہوں بلکہ خود زمانے نے مجھے بلایا ہے " موجودہ جدید تحریکات کے مقابل احمدیت کو تیسرا عظیم الشان امتیاز یہ حاصل ہے کہ تیسرا امتیاز احمدیت کا پیش کردہ نصب العین خالص روحانی نہایت درجہ بلند اور قابل صد فخر ہے۔بطور مثال چین اسلام ازم ہی کو لے لیجئے (جس کے بانی علامہ جمال الدین افغانی کو مجد دوقت بھی قرار دیا گیا ہے ) اس تحریک کا منتہائے مقصود صرف یہ ہے کہ مسلم ممالک کا ایک تیسرا بلاک معرض ظهور میں آجائے جو موجودہ اینگلو امریکن بلاک اور روسی بلاک کے دوش بدوش کھڑا ہو سکے۔چنانچہ بانی تحریک لکھتے ہیں: و مسلمانوں کو اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے سب سے پہلے ان اصولوں کو جاننا ضروری ہے کہ جن کے ذریعہ سے اپنی مدافعت کر سکیں۔دوسرے یہ کہ بوقت ضرورت وہ اتفاق رائے اور مستقل مزاجی سے کام لیں اور تیسرے یہ کہ وہ دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کے افکار و آراء سے ربط و تعلق پیدا کریں اور ملت پر آنے والے خطرات کا احساس کر کے متحد ہو جائیں۔کیا آپ روسیوں کو نہیں دیکھتے کہ ان میں ان تین اصولوں کے سوا اور کوئی بات نہیں پائی جاتی۔لنون وصنائع کی ترقی کے اعتبار سے یہ قوم تمام یورپی قوموں میں سب سے پیچھے تھی۔ان کے ملک میں دولت و ثروت کے ذرائع بھی موجود نہ تھے اور اگر یہ موجود ہوتے تب بھی وہاں ایسی صنعتیں بھی نہ تھیں جن سے وہ ان ذرائع سے استفادہ کر سکتے۔اس لئے افلاس ، تنگدستی کی مصیبت میں مبتلا ہیں مگر اس کے باوصف جب ان کی قوم پر کوئی مصیبت آئے تو وہ اس سے خبردار ہو کر اس کے دفع کرنے کی تدبیریں کرتے اور وسائل ترقی پر اتفاق کرتے ہیں۔ان کے خیالات میں ہم آہنگی اور ربط ہونے کی وجہ سے وہ یورپ کی تمام سلطنتوں میں ایک عظیم الشان شہنشاہیت کے مالک ہو گئے ہیں۔روس میں آلات حرب تیار کرنے کے بڑے کارخانے نہیں لیکن اس کے باوجود اس کو ترقی کرنے سے کوئی روک نہ سکا۔روس کے ہمسایہ ملکوں میں فنون حرب کو جتنی ترقی ہوئی اتنی خود روس میں نہیں ہوئی تھی۔لیکن اس کے باوجود اپنی فوجوں کی تربیت کے لئے دوسری قوموں سے ماہروں کے حاصل کرنے سے انہیں کوئی