تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 228 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 228

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۲۷ مسجد مبارک کی تعمیر سمجھایا کہ تو مسیح موعود ہے اور عیسی فوت ہو گیا ہے تب تک میں اسی عقیدہ پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے اسی وجہ سے کمال سادگی سے میں نے حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی نسبت براہین میں لکھا ہے۔جب خدا نے مجھ پر اصل حقیقت کھول دی تو میں اس عقیدہ سے باز آگیا۔میں نے بجز کمال یقین کے جو میرے دل پر محیط ہو گیا اور مجھے نور سے بھر دیا۔اس رسمی عقیدہ کو نہ چھوڑا۔حالانکہ اسی براہین میں میرا نام عیسی رکھا گیا تھا اور مجھے خاتم الخلفاء ٹھرایا گیا تھا اور میری نسبت کہا گیا تھا کہ تو ہی کسر صلیب کرے گا۔اور مجھے بتلایا گیا تھا تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله نیز فرمایا۔پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شد و مد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسی کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔پس جب اس بارہ میں انتہاء تک خدا کی وحی پہنچی اور مجھے حکم ہوا فا صدع بما تو مر یعنی جو مجھے حکم ہوتا ہے وہ کھول کر لوگوں کو سنا دے اور بہت سے نشان مجھے دیئے گئے اور میرے دل میں روز روشن کی طرح یقین بٹھا دیا گیا تب میں نے یہ پیغام لوگوں کو سنا دیا یہ خدا کی حکمت عملی میری سچائی کی ایک دلیل تھی۔اور میری سادگی اور عدم بناوٹ پر ایک نشان تھا اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا اور انسانی منصوبہ اس کی جڑ ہوتی تو میں، براہین احمدیہ کے وقت میں ہی یہ دعوی کرتا کہ میں مسیح موعود ہوں"۔مسلمانان عالم کے روشن مستقبل کے متعلق ایک خبر انیسویں صدی کا ربع آخر دنیائے اسلام کے لئے نہایت درجہ مایوس کن ، جگر سوز اور روح فرسا دور تھا۔ہندوستان میں ۱۸۵۷ء کے انقلاب کے بعد مغلیہ خاندان کی بساط سیاست پلٹ چکی تھی۔ترکی اور ایران کی منڈیوں پر یورپ کے سرمایہ دار قابض تھے۔مصر نہر سویز کے جاری ہونے پر برطانوی اقتدار کے شکنجے میں آچکا تھا اور وہاں احمد عربی پاشا کی قیادت میں فرنگی اور ترکی اقتدار کے خلاف قومی تحریک اٹھ چکی تھی اور برطانیہ کی امداد کے لئے ہندوستانی فوج کی نئی کمک پہنچ رہی تھی عرب قبائل والی نجد کے خلاف خانہ جنگی میں مصروف تھے۔ٹیونس ، الجیریا اور مراکش فرانسیسی اثر کے زیر نگین تھے اور ایران میں ہر طرف بد نظمی اور ابتری کا دور دورہ تھا۔اور یورپ کی سیاسی قوتیں جو طوفان بن کر اٹھی تھیں ہر طرف آندھی بن کر چھا چکی تھیں اور اسلامی دنیا مرد بیمار کی طرح سکتے