تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 219 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 219

تاریخ احمدیت۔جلدا PIA مسجد مبارک کی تعمیر ماموریت کا دوسرا سال مسجد مبارک کی تعمیر (۱۸۸۳ء) قادیان میں مسجد اقصیٰ کی موجودگی میں کسی اور مسجد کی بظاہر ضرورت نہیں تھی کیونکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور معدودے چند افراد کے سوا اس میں کوئی نمازی ہی نہیں تھا۔مگر چونکہ حضرت مسیح موعود معمور الاوقات انسان تھے اور مستقبل قریب میں آپ کے سپرد تحریک احمدیت کی قیادت ہونے والی تھی اور آپ کے ہاتھوں اسلام کی تائید میں عالمگیر قلمی جنگ کے آغاز کا زمانہ قریب آچکا تھا اس لئے حضور کو پیش آنے والی اور وسیع علمی و روحانی سرگرمیوں کے لئے ایک ایسے بیت الذکر کی ضرورت تھی۔جو آپ کے تاریخی چوبارے کے پہلوہی میں جو الہام میں ” بیت الفکر " کے نام سے موسوم ہوا اور جس میں آپ نے براہین احمدیہ ایسی عظیم الشان کتاب تصنیف فرمائی) موجود ہو۔تا کہ تصنیف و تالیف کی مصروفیات کے دوران میں ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیر نمازوں کے التزام کے علاوہ جب چاہیں اپنے مولائے حقیقی کے آستانہ پر بالحاح و زاری مجزو نیاز کر سکیں۔چنانچہ اس نوع کی متعدد آسمانی مصلحتوں کے مطابق حضرت اقدس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھاری بشارتوں کے ساتھ ایک مسجد کے قیام کی تحریک ہوئی۔یہ مسجد جو مسجد مبارک کہلاتی ہے آج بھی پوری شان و 33 عظمت کے ساتھ قادیان میں موجود ہے اور عالمگیر شہرت کی حامل ہے۔مسجد مبارک کی تعمیر مسجد مبارک کی بنیاد (حضرت پیر سراج الحق صاحب کی گذشتہ عینی شہادت کے مطابق) ۱۸۸۲ء میں اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب کی تحقیق کے مطابق ۱۸۸۳ء میں رکھی گئی تھی۔حضرت اقدس کے چوبارے کے ساتھ جہاں اس