تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 218 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 218

تاریخ احمدیت۔جلدا جون ۱۹۴۳ء صفحه ۹) 31 ۲۱۷ خلعت ماموریت سے سرفرازی ۳۹۔حضرت صوفی احمد جان صاحب کے بڑے بیٹے! انسایت باخد ابزرگ تھے۔حضرت اقدس کی پہلی زیارت لدھیانہ میں ۱۸۸۴ء میں کی مگر قادیان آنے کا اتفاق بشیر اول کے عقیقہ کی تقریب پر ۱۸۸۷ء میں ہوا۔ایک لمبے عرصے تک حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ ثانی کے خطوط نویس رہے۔۸۔جنوری ۱۹۵۱ء میں اٹھاسی سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا ( الفضل 11 جنوری ۱۹۵۱ء) حضرت مسیح موعود ان کے بارے میں فرماتے ہیں۔یہ جو ان صالح میرے مخلص اور محب صادق حاجی حرمین شریفین منشی احمد جان صاحب مرحوم و مغفور کے خلف رشید ہیں اور بمقتضائے الولد سرلا بیہ تمام محاسن اپنے والد بزرگوار کے اپنے اندر جمع رکھتے تھے"۔(ازالہ اوہام صفحہ ۸۱۳) ۴۰ حضرت صوفی احمد جان صاحب کے دوسرے فرزند جو " قاعدہ میسر نا القرآن" کے موجد کی حیثیت سے ملک بھر میں مشہور ہوئے آپ نے بھی عقیقہ بشیر اول کے موقعہ پر ہی قادیان کا پہلا سفر اختیار کیا تھا ان کے مزاج میں تصوف کا رنگ بہت غالب تھا انہوں نے صرف اسی شوق میں خوشنویسی سیکھی تا حضور کی کتابوں کی کتابت حضور کے منشاء کے مطابق بہترین ہو سکے۔چنانچہ حضرت اقدس کی بہت سی کتابوں کے پہلے ایڈیشن آپ ہی کے لکھے ہوئے ہیں جو خوشنویسی کا دلاویز مرقع اور الفت و محبت کی ابدی یادگار ہیں۔تاریخ وفات ا۲ جون ۱۹۵۰ء (الفضل ۲۳- جون ۱۹۵۰) مفصل کو ائف آئندہ صفحات میں آرہے ہیں۔-۴۲ مرقاۃ الیقین صفحه ۱۹۱ طبع اول صفحہ ۱۳۳۱۰۱۹۱ھ مولفه اکبر شاہ خان نجیب آبادی مطبوعہ قادیان ۱۳۳۱ھ / ۱۹۱۳ء -۴۳ مکتوب سرسید احمد خان مورخه ۸ مارچ ۱۸۹۷ء (الحکم ۱۴- اپریل ۱۹۳۴ء) ۴۴ آئینہ کمالات اسلام " طبع اول صفحه ۵۸۱-۵۸۳ ۴۵ اس اشتہار کا ذ کر ۱۸۸۵ء کے واقعات میں آرہا ہے۔کتاب "مجدد اعظم" میں اس کی بجائے یہ فرضی واقعہ لکھا ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے ایک دو اجو عطار کی دکان سے منگوائی اس نے جس کاغذ میں دوار کھ کر بھیجی وہ براہین احمدیہ کا اشتہار تھا۔(مسجد داعظم صفحه ۱۳۶ حصہ اول) ناشر احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور - طبع اول دسمبر ۱۹۳۹ء ۴۷- امام دین (مرتب) ۴۸ الحکم -۲۲ اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۲ ۳ دالحکم ہے۔فروری ۱۹۱۰ ء صفحہ ۷ الحکم ۲۲- اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۳ کالم نمبر ۳۔۵۰ مکتوبات بنام خلیفہ المسیح اول " (مرتبہ عرفانی الکبیر)