تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 212 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 212

تاریخ احمدیت۔جلدا ٢١١ خلعت ماموریت سے سرفرازی اور بہت بڑا عہدہ دار شخص جو کہ مسلمان کہلاتا تھا میرا اس سے حضرت نبی کریم ﷺ کی نبوت کے معاملہ میں مباحثہ ہوا کیونکہ وہ ایسے دعاوی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔آخر کار دوران گفتگو میں اس نے تسلیم کیا کہ میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبین یقین کرتا ہوں۔لہذا اس معاملہ میں میں اب بحث نہیں کرتا۔اس پر میں نے اس سے پوچھا بھلا ختم نبوت کی کوئی دلیل تو بیان کرو کیونکہ میرا خیال تھا کہ اس شخص نے اس وقت یہ اقرار صرف پیچھا چھڑانے کی غرض سے کر لیا ہے چنانچہ میرا وہ خیال درست نکلا اور اس نے یہ جواب دیا کہ آنحضرت ﷺ کی کمال دانائی اور عاقبت اندیشی اس امر سے مجھے معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے ختم نبوت کا دعویٰ کیا۔کیونکہ آپ زمانہ کی حالت سے یہ یقین کر چکے تھے کہ لوگوں کی عقلیں اب بہت بڑھ گئی ہیں اور کہ آئندہ ایسا زمانہ اب نہیں آئے گا کہ لوگ آئندہ کسی کو مرسل یا مبط وحی مان سکیں۔اس بناء پر آپ نے (نعوذ باللہ ) دعوی کر دیا کہ میں ہی خاتم النبیین ہوں۔اور یہی وجہ ہے کہ میں آپ کو بڑے اعلیٰ درجہ کا دانا اور عاقبت اندیش انسان مانتا ہوں میں نے اس دلیل کو سن کر بہت ہی رنج کیا اور میرے دل کو سخت صدمہ اور دکھ پہنچا کہ یہ شخص بڑا ہی محجوب ہے اور بے باک ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ اولیائے کرام کے حالات سے بھی نابلد محض ہے۔اب چونکہ ایک طرف تو اس سے مباحثہ ہوا تھا اور اس کا صدمہ دل پر ابھی باقی تھا دوسری طرف وہیں کے پرائم منسٹر نے مجھے حضرت اقدس کا پہلا اشتہار دیا۔جس میں اس سوفسطائی کا ظاہر اور بین جواب تھا جو نہی کہ پرائم منسٹر نے مجھے وہ اشتہار دیا میں فوراً اسے لے کر اس عہدہ دار کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ دیکھو تمہاری وہ دلیل کیسی غلط اور ظنی ہے۔اس وقت بھی ایک شخص نبوت کا مدعی موجود ہے۔اور وہ کہتا ہے خدا مجھ سے کلام کرتا ہے یہ سن کر وہ نہایت گھبرایا اور متحیر ہو کر بولا۔اچھا دیکھا جاوے گا۔میں تو چونکہ مجھے ایک تازہ چوٹ اس وقت لگئی تھی فورا اس اشتہار کے مطابق اس امر کی تحقیق کے واسطے قادیان کی طرف چل پڑا اور روانگی سے پہلے اور دوران سفر میں اور پھر قادیان کے قریب پہنچ کر قادیان کو دیکھتے ہی نہایت اضطراب اور کپکپا دینے والے دل سے دعائیں کیں۔جب میں قادیان پہنچا۔تو جہاں میرا یکہ ٹھہرا وہاں ایک بڑا محراب دار دروازہ نظر آیا جس کے اندر چارپائی پر ایک بڑازی وجاہت آدمی بیٹھا نظر آیا۔میں نے یکہ بان سے پوچھا کہ مرزا صاحب کا مکان کونسا ہے جس کے جواب میں اس نے اسی رشائل مشبہ داڑھی والے کی طرف جو اس چارپائی پر بیٹھا تھا اشارہ کیا کہ یہی مرزا صاحب ہیں مگر خدا کی شان اس کی شکل دیکھتے ہی میرے دل میں ایسا انقباض پیدا ہوا کہ میں نے یکے والے سے کہا کہ ذرا ٹھہر جاؤ میں بھی تمہارے ساتھ ہی جاؤں گا اور وہاں میں نے تھوڑی دیر کے واسطے بھی ٹھہر نا گوارا نہ کیا۔اس شخص کی شکل ہی میرے واسطے ایسی صدمہ وہ تھی کہ جس کو میں ہی سمجھ سکتا ہوں۔آخر طو عاد