تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 5 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 5

تاریخ احمدیت جلدا سلسلہ احمدیہ کا تعارف عہد کے پیغمبر کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس ہنگامہ زار میں وعظ و تبلیغ کرے " پاکستان کے ایک مسلمان عالم لکھتے ہیں۔” عالم مادی کے اس ارتقائی اور بظا ہر نورانی دور میں جبکہ انسان تسخیر شمس و قمر کے خواب دیکھتے ہوئے اصل مقصد تخلیق سے غافل اور جذبہ پوشیدہ " انا" پر متکبر ہو کر سفینہ حیات عالم کو بحر ضلالت و گمراہی کے تموج خیز گرداب تک پہنچا چکا ہے۔۔۔آج ابلیس اپنے وعدے کی صداقت پر خندان و شاداں اور نگاہ عالم و خداوند حقیقی منتظر و نگران ہے ایک ایسے خلاصہ انبیاء کی جانب جس کی غیبت مثل یوسف رجعت مثل عیسی طول عمر مثل خضر اور خلق و خلق مثل محمد مصطفیٰ ہے "۔مشہور عالم مولانا سید ابو الحسن علی ندوی معتمد تعلیم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو د ركن عربي اکیڈیمی دمشق لکھتے ہیں ” مسلمانوں پر عام طور پر یاس و نومیدی اور حالات و ماحول سے شکست خوردگی کا غلبہ تھا۔۱۸۵۷ء کی جدوجہد کے انجام اور مختلف دینی و عسکری تحریکوں کو دیکھ کر معتدل اور معمولی ذرائع اور طریقہ کار سے انقلاب حال اور اصلاح سے لوگ مایوس ہو چلے تھے اور عوام کی بڑی تعداد کسی مرد غیب کے ظہور اور علم اور موید من اللہ کی آمد کی منتظر تھی۔کہیں کہیں یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا تھا کہ تیرہویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا ظہور ضروری ہے۔مجلسوں میں زمانہ آخر کے فقتوں اور واقعات کا چرچا تھا "۔نیز لکھتے ہیں۔” عالم اسلام مختلف دینی و اخلاقی بیماریوں اور کمزوریوں کا شکار تھا۔اس کے چہرہ کا سب سے بڑا داغ وہ شرک جلی تھا جو اس کے گوشہ گوشہ میں پایا جاتا تھا۔قبریں اور تعزیے بے محابا بج رہے تھے۔غیر اللہ کے نام کی صاف صاف رہائی دی جاتی تھی۔بدعات کا گھر گھر چر چاتھا۔خرافات اور توہمات کا دور دورہ تھا۔یہ صورت حال ایک ایسے دینی مصلح اور داعی کا تقاضا کر رہی تھی جو اسلامی معاشرہ کے اندر جاہلیت کے اثرات کا مقابلہ اور مسلمانوں کے گھروں میں اس کا تعاقب کرے جو پوری وضاحت اور جرات کے ساتھ تو حید وسنت کی دعوت دے اور اپنی پوری قوت کے ساتھ الا لله الدین الخالص کا نعرہ بلند کرے"۔پس موجودہ کار زار عالم میں ایک آسمانی قیادت کی ضرورت تھی جو مسیح وقت حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کی بعثت کے ذریعہ سے پایہ تکمیل کو پہنچی۔اسی لئے آپ فرماتے ہیں: اے بندگان خدا آپ لوگ جانتے ہیں کہ جب امساک باراں ہو تا ہے اور ایک مدت تک مینہ نہیں برستا تو اس کا آخری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کو ئیں بھی خشک ہونے شروع ہو جاتے ہیں پس جس طرح جسمانی طور پر آسمانی پانی بھی زمین کے پانیوں میں جوش پیدا کرتا ہے اسی طرح روحانی طور پر جو آسمانی