تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 211 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 211

تاریخ احمدیت جلدا خلعت ماموریت سے سرفرازی حضرت مولانا نورالدین صاحب شاہی دعوئی مسیحیت سے قبل جو بزرگ قادیان آئے طبیب کا قادیان کی طرف پہلا تاریخی سفر ان میں حضرت حکیم مولانا نور الدین صاحب کی قادیان میں اولین تشریف آوری اپنے اندر ایک خاص تاریخی شان رکھتی ہے۔تاریخ احمدیت میں آپ کا تذکرہ کئی جگہ آئے گا۔اس لئے مختصر ایہ بتانا ضروری ہے کہ حضرت حافظ حاجی الحرمین مولانا نور الدین صاحب بھیروی شاہی طبیب حضرت عمر فاروق ( وفات یکم محرم ۲۴ھ) کے شجرہ طیبہ کے ایک شیریں ثمر دین حق کے جری پہلوان اور آسمان علم و حکمت کے آفتاب تھے۔قرآن مجید، حدیث ، فقہ کلام منطق اور فلسفہ وغیرہ اسلامی علوم میں ان کے تبحر علمی کا کوئی جواب نہیں تھا۔قلم کے دھنی اور میدان تقریر کے شہسوار - مذاہب عالم پر اتنی وسیع نظر تھی کہ مسلمان ہی نہیں ، ہندو، سکھ، عیسائی ، برہمو و ہر یہ بھی حیرت زدہ ہو جاتے اور عش عش کر اٹھتے تھے۔مد مقابل پر لبوں کی ایک ہی جنبش سے مر سکوت لگا دینا آپ کی نکتہ آفرینی اور حاضر دماغی کا ایک ادنی کرشمہ سمجھا جاتا تھا۔کئی سال تک مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں رہے اور دیار حبیب کی برکتوں سے فیضیاب ہوئے۔ابتداء میں حضرت شاہ عبد الغنی صاحب مجددی مهاجر مکی و مدنی (خلف الصدق حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی متوفی ۱۲۹۶ھ ) حضرت محمد جی بخاری مولوی عبد القیوم صاحب سے بیعت ہوئے۔حالانکہ خود ان کا مقام اتنا بلند تھا کہ تو کل اور رضاء الہی میں ضرب المثل تھے۔علی گڑھ تحریک کے قابل احترام بانی سرسید احمد خاں مرحوم (۱۸۱۷-۱۸۹۸ء) کہا کرتے تھے کہ جاہل جب ترقی کرتا ہے تو پڑھا لکھا کہلاتا ہے جب اور ترقی کرتا ہے تو فلسفی کہلاتا ہے پھر ترقی کرے تو صوفی بن جاتا ہے مگر جب صوفی ترقی کرتا ہے تو مولانا نور الدین بن جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مامور ہونے کے بعد اکثر دعا کیا کرتے تھے کہ اپنی جناب سے اس دینی خدمت کا بوجھ اٹھانے کے لئے کوئی شریک سفر پیدا فرما۔چنانچہ آپ کو آنحضرت ا کی طرح ایک فاروق کی بشارت دی گئی۔یہ فاروق حضرت مولانا نور الدین شاہی طبیب تھے۔0 ۱۸۸۵ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نشان نمائی کی دعوت کا ایک اشتہار شائع فرمایا حضرت مولانا نور الدین صاحب بھیروی ریاست جموں کے شاہی طبیب کی حیثیت سے جموں میں مقیم تھے۔کہ یہیں آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اشتہار ملا اور آپ حضرت کی زیارت کے لئے دیوانہ وار جموں سے قادیان روانہ ہو گئے۔آپ کے اس پہلے سفر کی مفصل کی روداد ذیل میں خود حضرت مولانا نورالدین کے حقیقت افروز قلم سے لکھتا ہوں۔فرماتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب کا خیال مجھے پہلے پہلے اس بات سے پیدا ہوا کہ ایک بڑا انگریزی تعلیم یافتہ