تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 207
تاریخ احمدیت۔جلدا 14- ۲۰۶ خلعت ماموریت سے سرفرازی خاصہ الیہ سے علم ہونا چاہیے وہی برکتیں اب بھی جوئندوں کے لئے مشہور ہو سکتی ہیں جس کا جی چاہے صدق قدم سے رجوع کرے اور دیکھے اور اپنی عاقبت کو درست کر لے۔انشاء اللہ تعالٰی ہر ایک طالب صادق اپنے مطلب کو پائیگا اور ہریک صاحب بصارت اس دین کی عظمت کو دیکھے گا مگر کون ہمارے سامنے آکر اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ وہ آسمانی نور ہمارے کسی مخالف میں بھی موجود ہے اور جس نے حضرت محمد مصطفی ﷺ کی رسالت اور افضیلت اور قرآن شریف کے منجانب اللہ ہونے سے انکار کیا ہے وہ بھی کوئی روحانی برکت اور آسمانی تائید اپنی شامل حال رکھتا ہے۔کیا کوئی زمین کے اس سرے سے اس سرے تک ایسا متنفس ہے کہ قرآن شریف کے ان چمکتے ہوئے نوروں کا مقابلہ کر سکے۔کوئی نہیں ایک بھی نہیں "۔نیز فرمایا ” اس زمانہ کے پادری اور پنڈت اور برہمو اور آریا اور دوسرے مخالف چونک نہ اٹھیں کہ وہ برکتیں کہاں ہیں وہ آسمانی نور کدھر ہیں جن میں امت مرحومہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی میسیج اور موسیٰ کی برکتوں میں شریک ہے اور ان نوروں کی وارث ہے جن سے اور تمام قومیں اور تمام اہل مذاہب محروم اور بے نصیب ہیں اس ثبوت دینے کے ہم آپ ہی ذمہ دار ہیں پس اگر کوئی پادری یا پنڈت یا برہمو کہ جو اپنی کو رباطنی سے منکر ہیں یا کوئی آریہ اور دوسرے فرقوں میں سے سچائی اور راستی سے خدا تعالٰی کا طالب ہے تو اس پر لازم ہے کہ بچے طالبوں کی طرح اپنے تمام تکبروں اور غروروں اور نفاقوں اور دنیا پرستیوں اور ضروں اور خصومتوں سے بکلی پاک ہو کر فقط حق کا خواہاں اور حق کا جو یاں بن کر ایک مسکین اور عاجز اور ذلیل آدمی کی طرح سیدھا ہماری طرف چلا آوے اور پھر صبر اور برداشت اور اطاعت اور خلوص کو صادق لوگوں کی طرح اختیار کرے تا انشاء اللہ اپنے مطلب کو پاوے"۔ا اس اعلان پر کسی غیر مسلم کو یہ توفیق نہ مل سکی کہ وہ یہ فیصلہ کن آسمانی دعوت قبول کرتے ہوئے آپ کی خدمت میں پہنچا اور اسلام کی صداقت کے نشانوں کا بچشم خود مشاہدہ کرتا اور دنیا حق و باطل میں کھلا امتیاز کر لیتی۔التبہ بعض الٹی کھوپڑیوں میں یہ خبط کا گیا کہ نشان نمائی کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے آپ کے پیش کردہ نشانات کی تکذیب میں سر دھڑ کی بازی لگادی جائے۔چنانچہ بد زبان پنڈت لیکھرام جو ان دنوں صوابی ضلع پشاور میں محکمہ پولیس میں ملازم تھا اور اپنی دشنام طرازی اور گندہ دہنی میں سوامی دیانند صاحب سے بھی گوئے سبقت لے گیا تھا اس موقعہ پر پہلی مرتبہ میدان مقابلہ میں اترا اور اس نے لالہ ملاوائل اور لالہ شرمپت رائے پر خط و کتابت کے ذریعہ سے ہر ممکن دباؤ ڈالا کہ اپنی مصدقہ شہادتوں سے دستکش ہونے کا اعلان کریں۔مگر انہوں نے پوری اخلاقی جرات سے کام لیتے