تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 205
تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۰۴ خلعت ماموریت سے سرفرازی ماموریت کا انکشاف کیا گیا یعنی آپ کو خبر دی گئی کہ کثرت مکالمہ و مخاطبہ الیہ کے جس شرف کو آپ محمد ثبت قرار دے رہے ہیں وہ خدا تعالٰی کی اصطلاح میں نبوت ہے۔اس انکشاف پر آپ نے اپنے متعلق جزوی یا نا قص نبوت یا محد ثیت کے الفاظ کا استعمال ہمیشہ کے لئے ترک کر دیا اور صاف لفظوں میں اعلان فرمایا کہ ” میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں"۔نیز گذشتہ مسلک کے بر عکس ایک دوسرا جامع تصور نبوت امت کے سامنے آپ نے یہ پیش فرمایا کہ ”مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور فیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت سے موسوم ہوتا ہے"۔اس دعوئی کو آپ نے بار بار نهایت زور دار لفظوں میں بیان فرمایا اور آیت فَلا يُظهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رسول (الجن : ۱۲۸۰۲۷ کی روشنی میں یہاں تک لکھا کہ میں اس دعوئی میں منفرد نہیں بلکہ جملہ انبیاء علیم السلام کا اس پر اتفاق ہے۔بلکہ خود اللہ تعالٰی کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے"۔اس انقلاب آفریں تصویر سے جہاں آنحضرت ﷺ کی اس خبر کی سچائی نصف النہار کی طرح ثابت ہو گئی جس میں مسیح محمدی کو نبی اللہ کہا گیا تھا وہاں اس سے اتحاد اسلامی کی بنیادیں بھی نہایت درجہ مضبوط ہو گئیں وہاں اس کے نتیجہ میں صاف کھل گیا کہ نہ صرف ختم نبوت کے باب میں تحریک احمدیت کا نقطہ نگاہ جمہور امت سے ہرگز علیحدہ نہیں بلکہ اس تحریک کا قیام ہی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہوا ہے۔حضرت اقدس نے اسی حقیقت کی طرف مسلمانان عالم کو بھی توجہ دلائی اور لکھا۔" مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الیہ ہے جو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے حاصل ہے۔سو مکالمہ و مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ و د مخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الہی نبوت رکھتا ہوں" اس وضاحتی بیان نے اگر چہ الجھاؤ کی کوئی صورت نہیں چھوڑی تھی تاہم اس عاشق رسول نے تعریف نبوت کی اس الہامی تبدیلی کے بعد اب بھی فقط نبی ک لفظ اپنے لئے گوارا نہیں فرمایا بلکہ اس کے ساتھ امتی" کے لفظ کا اضافہ ضروری سمجھا۔چنانچہ آپ نے لکھا " شریعت آنحضرت پر ختم ہے اور آنحضرت ا کے بعد کسی پرنی کے لفظ کا اطلاق بھی جائز نہیں جب تک اس کو امتی بھی نہ کہا جائے۔جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک انعام اس نے آنحضرت ﷺ کی پیروی سے پایا ہے نہ براہ راست " - ان تفصیلات سے ظاہر ہے کہ ماموریت کے پہلے الہام میں آپ کا جو حقیقی مقام متعین کیا گیا تھا |JA