تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 202
تاریخ احمدیت جلدا خلعت ماموریت سے سرفرازی غرض سے کہ تا ہمیشہ اس رسول مقبول ﷺ کی برکتیں ظاہر ہوں اور نا ہمیشہ اس کے نور اور اس کی قبولیت کی کامل شعاعیں مخالفین کو ملزم اور لاجواب کرتی رہیں اس طرح پر اپنی کمال حکمت اور رحمت سے انتظام کر رکھا ہے کہ بعض افراد امت محمدیہ کے جو کمال عاجزی اور تذلل سے آنحضرت کی متابعت اختیار کرتے ہیں اور خاکساری کے آستانہ پر پڑ کر بالکل اپنے نفس سے گئے گزرے ہوتے ہیں خدا ان کو فانی اور ایک مصفا شیشہ کی طرح پا کر اپنے رسول مقبول ﷺ کی برکتیں ان کے وجود بے نمود کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے اور جو کچھ منجانب اللہ ان کی تعریف کی جاتی ہے یا کچھ آثار اور برکات اور آیات ان سے ظہور پذیر ہوتی ہیں حقیقت میں مرجع تام ان تمام تعریفوں کا اور مصدر کامل ان تمام برکات کا رسول کریم ﷺ ہی ہوتا ہے اور حقیقی اور کامل طور پر وہ تعریفیں اس کے لائق ہوتی ہیں اور وہی ان کا مصداق اتم ہوتا ہے۔مگر چونکہ قبع سفن آن سرور کائنات کا اپنے غایت اتباع کے جہت سے اس شخص نورانی کے لئے کہ جو وجود باجود حضرت نبوی ہے مثل کل کے ٹھہر جاتا ہے اس لئے جو کچھ اس شخص مقدس میں انوار السیہ پیدا اور ہویدا ہیں۔اس کے کل میں بھی نمایاں اور ظاہر ہوتے ہیں اور سایہ میں اس تمام وضع اور انداز کا ظاہر ہونا کہ جو اس کے اصل میں ہے ایک ایسا امر ہے کہ جو کسی پر پوشیدہ نہیں ہاں سایہ اپنی ذات میں قائم نہیں اور حقیقی طور پر کوئی فضیلت اس میں موجود نہیں بلکہ جو کچھ اس میں موجود ہے وہ اس کے شخص اصلی کی ایک تصویر ہے جو اس میں نمودار اور نمایاں ہے "۔اس حقیقت کی روشنی میں آپ زیادہ سے زیادہ یہی سمجھے کہ آپ کے سپرد تجدید دین اور احیائے شریعت کی خدمت کی گئی ہے اور یہ کہ آپ چودھویں صدی کے مجدد ہیں۔چنانچہ خود ہی فرماتے ہیں۔” جب تیرھویں صدی کا اخیر ہوا اور چودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو خدا تعالٰی نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے اور اللہ تعالٰی کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ الرحمنُ عَلَمَ الْقُرْآنَ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وَاَنَا اوَلُ الْمُؤْمِنِينَ " كتاب البریہ صفحہ ۱۶۸ حاشیہ) اس انکشاف پر بھی آپ نے دنیا کے سامنے باقاعدہ کوئی دعوئی نہیں کیا یہاں تک کہ ۱۸۸۵ء میں جب براہ راست جناب الی کی طرف سے آپ کو اس کی تحریک ہوئی تو آپ نے محمد دیت کا اعلان فرمایا اور یوں پہلی مرتبہ آپ محض ایک مجدد کی حیثیت میں دنیا سے روشناس ہوئے حالانکہ جیسا کہ خود آپ کو بھی بعد میں تدریجا بتایا گیا چودھویں صدی کا مجدد محض مجدد نہیں قرار دیا جا سکتا تھا کیونکہ خدائی نوشتوں میں تیرھویں صدی کو جو نمایاں خصوصیت حاصل تھی اس کے لحاظ سے چودھویں صدی کا مامور اور محمد دا اپنے مقام کے اعتبار سے امت میں ایک ممتاز شخصیت تسلیم کیا گیا ہے۔چنانچہ انیسویں صدی تک کے مستند اسلامی