تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 195
تاریخ احمدیت جلدا 190 براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت روزنامچہ نویس کے زمانہ میں قادیان اور بیرون کے ہندو مسلمان اصحاب کو خدائی کلام سے وقتاً فوتنا مطلع کرنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور جاری رہا۔اور اس میں اور زیادہ وسعت اور با قاعدگی پیدا ہو گئی۔کیونکہ اس زمانہ میں ملک کا ایک طبقہ صدق و عقیدت کے ساتھ آپ کی طرف مائل ہو چکا تھا۔اور آپ انہیں بذریعہ مکتوبات اپنے الہامات سے باخبر رکھتے تھے۔خصوصاً میر عباس علی صاحب لدھیانوی سے تو اس ضمن میں باقاعدہ ایک سلسلہ خط و کتابت جاری رہتا تھا۔بلکہ حضرت اقدس کا طریق مبارک تھا کہ کسی شخص کے نام مراسلت فرماتے تو اس کی ایک کاپی میر عباس علی صاحب کو بھیجوا دیتے جسے وہ باوضو ہو کر نہایت عقیدت کے ساتھ اپنے رجسٹر میں محفوظ کر لیتے۔اور یوں قدرت نے انہی کے ہاتھوں اس گیج گراں مایہ کی حفاظت کا سامان کیا۔۵۶ اس زمانہ کی عظیم الشان پیشگوئیاں اور نشانات یہ زمانہ آسمانی تجلیات کا ایک خاص زمانہ تھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مستقبل کے متعلق بڑی عظیم الشان خبریں دی گئیں۔جو بعد میں بڑی آب و تاب سے پوری ہو ئیں۔مثلاً آپ کو بتایا گیا کہ ایک شریف اور عالی نسب خاندان سے آپ کا تعلق قائم ہونے والا ہے اور اس دوسری شادی کے لئے بھی انتظامات اللہ تعالیٰ اپنے معجز نما ہاتھ سے کرے گا اور آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی۔نیز ایک مبارک نسل کا وعدہ بھی آپ کو دیا گیا اور ایک حسین فرزند کی قبل از وقت اطلاع بھی حضور کا مشہور تاریخی اور پر شوکت الهام " انتي مهين مَنْ اَرَادَ اهانتگ بھی اسرہ زمانہ میں نازل ہوا جو ہزاروں دفعہ پورا ہوا۔اور واقعات نے ہر رنگ میں اس کی سچائی پر شہادت دی اور مخالفین تک نے کھلے لفظوں میں تسلیم کیا کہ "جب تک وہ انداز اختیار نہ کیا جائے جس سے فکری اور عملی تقاضے پورے ہوں۔ہنگامہ خیزی کا نتیجہ وہی برآمد ہو گا جس پر مرزا صاحب کا الهام انتي مهين من اَرَادَاهَا نَتَكَ صادق آئے گا"۔اس زمانہ میں جہاں مستقبل کے متعلق یہ اہم خبریں دی گئیں وہاں متعدد نشانات بھی ظہور پذیر ہوئے۔سردار محمد حیات خاں عرصہ کی معطلی کے بعد آپ کی خواب کے مطابق بحال ہوئے اور لالہ لاوائل جو دق کے مسلک اور جا نگر از مرض میں مبتلا ہو گئے تھے محض آپ کی دعا اور خدائی بشارت کے مطابق ایک ہفتہ کے اندر اندر مکمل طور پر شفایاب ہو گئے اور پچانوے سال کی عمر بائی جو ایک بے مثال معجزہ ہے اور جس کی مثال طبی دنیا میں تلاش کرنا مشکل ہے۔اس زمانہ کے نشانات کو ایک عجیب خصوصیت یہ حاصل تھی کہ اللہ تعالی کی طرف سے آپ کو قبل از وقت یہ اطلاع دے دی جاتی تھی کہ فلاں شخص آپ کو اس قدر رقم بھجوا رہا ہے چنانچہ جب ہندو اور مسلمان ڈاک خانہ سے پتہ کرتے تو