تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 186
تاریخ احمدیت جلد ۱۸۵ براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت ہمارے دوست ہم کو مت ڈرا دیں اور یقین کر کے سمجھیں جو ہم کو اپنے خدائے قادر مطلق اور اپنے موٹی کریم پر اس سے زیادہ تر بھروسہ ہے کہ جو ممسک اور خسیس لوگوں کو اپنی دولت کے ان صندوقوں پر بھروسہ ہوتا ہے کہ جن کی تالی ہر وقت ان کی جیب میں رہتی ہے۔سود ہی قادر و توانا اپنے دین اور اپنی وحدانیت اور اپنے بندہ کی حمایت کے لئے آپ مدد کرے گا"۔نیز فرمایا : اس قدر ہم نے برعایت پر لکھا ہے ورنہ اگر کوئی مدد نہیں کرے گا یا کم توجہی سے پیش آئے گا۔حقیقت میں وہ آپ ہی ایک سعادت عظمی سے محروم رہے گا۔اور خدا کے کام رک نہیں سکتے اور نہ کبھی رکے۔جن باتوں کو قادر مطلق چاہتا ہے وہ کسی کی کم توجہی سے ملتوی نہیں رہ سکتیں۔12 ظاہر کتاب کی اشاعت میں جذبہ خدمت دین کی نمایاں جھلک پر امین احمدیہ شائع ہوئی تو الہ تعالٰی نے لدھیانہ کے ایک صوفی میر عباس علی شاہ صاحب کے دل میں اس قابل قدر اور نایاب تصنیف کی اشاعت کے لئے دلی تڑپ پیدا کر دی اور انہوں نے حضرت اقدس سے براہین احمدیہ کے کچھ نسخے حاصل کر کے اپنے ہاں محلہ صوفیاں میں اس کی فروخت کے لئے ایک شاخ کھول دی جو قادیان سے باہر براہین احمدیہ کی واحد ایجنسی تھی۔جہاں سے اس وقت یہ کتاب دستیاب ہو سکتی تھی۔یہ ایجنسی کوئی تجارتی اصولوں پر قائم نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کے سبھی معاملات سرتاپادین تھے۔اس میں نہ تو کسی کمیشن کا قضیہ تھانہ حق تالیف و تصنیف کا سوال ابس یہی ایک دھن لگی ہوئی تھی کہ اسلام کی ڈگمگاتی ہوئی کشتی کفر کے بھرے ہوئے طوفانوں سے بچ کر کسی طرح ساحل عافیت تک پہنچ جائے اور مسلمان اپنے مذہبی اور دینی اصولوں کی برتری کے لحاظ سے پھر سے عظمت رفتہ کا مالک بن جائے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میر صاحب موصوف کو یہ اصولی ہدایت دے رکھی تھی کہ : چونکہ یہ کام خالصتاً خدا کے لئے اور خود حضرت احدیت کے ارادہ خاص سے ہے اس لئے آپ اس کے خریداروں کی فراہمی میں یہ ملحوظ خاطر شریف رکھیں کہ ایسا کوئی خریدار شامل نہ ہو جس کی محض خرید و فروخت پر نظر ہو۔بلکہ جو لوگ دینی محبت سے مدد کرنا چاہتے ہیں انہیں کی خریداری مبارک اور بہتر ہے۔کیونکہ در حقیقت یہ کوئی خرید و فروخت کا کام نہیں۔غرض آں مخدوم اس سعی اور کوشش میں خداوند کریم پر توکل کر کے صادق الارادت لوگوں سے مدد لیں۔اور اگر ایسے نہ ملیں تو آپ کی طرف سے دعا ہی مدد ہے۔ہم عاجز اور ذلیل بندے کیا حیثیت اور کیا قدر رکھتے ہیں۔وہ جو قادر مطلق ہے وہ جب چاہے گا تو اسباب کا ملہ خود بخود میسر کر دے گا کون سی بات ہے جو اس کے آگے آسان نہ ہو۔