تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 185
تاریخ احمدیت جلدا ۱۸۴ براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت عرصہ کے بعد آپ پر الہام نازل ہو ا مر اليْكَ بِجِذْعِ النَّخَلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكَ رُطَبَا جَنيَّا ( کھجور کا تنہ ہلا تجھ پر تازہ بتازہ کھجور میں گریں گی یہ خدائی بشارت ملنے پر آپ نے سمجھ لیا کہ یہ تحریک اور ترغیب کی طرف اشارہ ہے اور یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ بذریعہ تحریک اس حصہ کتاب کے لئے سرمایہ جمع ہوگا"۔عامتہ المسلمین اور رؤساء سے تحریک چنانچہ حضرت احدیت کے اس علم کی تعمیل میں حضور نے ملک میں اشتہارات شائع فرمائے۔اور خصوصاً امراء اور رؤساء کو تحریک کی غرض سے سب سے اول جناب خلیفہ سید محمد حسن خاں صاحب مرحوم وزیر اعظم ریاست پٹیالہ سے اور پھر بعض دوسرے رؤساء سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ اسلام پر آنے والی قیامت خیز مصیبتوں کا احساس کریں اور دینی فرض شناسی کا ثبوت دیتے ہوئے اس علمی جہاد میں آپ کا ہاتھ بٹائیں حساب کی رو سے کتاب کے اصل مصارف پچیس روپے کے قریب بنتے تھے۔مگر آپ نے اعلان فرمایا کہ اس کتاب کو عام مسلمانوں تک پہنچانے کے لئے صرف دس روپے کا برائے نام ہدیہ مقرر کیا جاتا ہے اور امید ظاہر فرمائی کہ اگر امراء اسلام اپنے مطبخ کے ایک ایک دن کا خرچ بھی بطور امانت پیش کریں تو یہ عظیم الشان کتاب سهولت شائع ہو جائے گی اور اس طرح نقصان کی تلافی کی صورت بھی نکل آئے گی جس سے ہزار ہا بندگان خدا فائدہ اٹھا سکیں گے۔یہ تو اشاعت سے قبل آپ نے بذریعہ اشتہارات تحریک فرمائی۔اس کے بعد جب کتاب کا پہلا حصہ چھپا تو آپ نے ڈیڑھ سونے ملک کے بڑے بڑے امیروں، دولتمندوں اور رئیسوں کو بھی اس خیال سے بھجوائے کہ اگر وہ کتاب کی خریداری منظور کر کے کم از کم معمولی مقررہ قیمت ہی پیشگی ارسال کر دیں تو کتاب کے اگلے حصوں کا انتظام کیا جائے۔نیز اپنے قلم سے ڈیڑھ سو کے قریب خطوط بھی لکھے اور انہیں حقیقت حال سے اطلاع بھی دی۔دا پر ایمان افروز توکل غرض کہ آپ نے خدائی ارشاد کے مطابق تبلیغ و تحریص کا حق ادا کر دیا اور عوام اور امراء دونوں کو اس دینی خدمت سے وابستہ کرنے کی کوئی ممکن صورت نظر انداز نہیں ہونے دی۔البتہ سنت مامورین کے مطابق بے شک ظاہری سامانوں کے لئے تدبیر اختیار فرمائی۔مگر تو کل اور بھروسہ تنہا خدا پر رکھا جس نے پہلے سے امداد کی بشارت دے رکھی تھی۔اور تحریک کرتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ یہ صاف بتاتے چلے گئے کہ براہین احمدیہ کی تصنیف کا کام خدائی منشاء اور مصلحت کے مطابق ہو رہا ہے۔اس لئے وہ ضرور اس کی اشاعت کے غیبی سامان پیدا کرے گا۔چنانچہ فرمایا " رہا یہ فکر کہ اس قدر روپیہ کیونکر میسر آدے گا۔سو اس سے تو