تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 182 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 182

تاریخ احمدیت جلدا JAI بر این احمدیہ کی تصنیف و اشاعت دراصل آنحضرت اللہ کی شان اقدس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا ذاتی اعتقاد (جو آپ نے انہی دنوں حضرت صوفی احمد جان صاحب کے ایک سوال کے جواب میں میر عباس علی صاحب کو لکھا) یہ تھا کہ : اس کتاب (براہین احمدیہ - ناقل) میں تعریف قرآن شریف اور حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی ہے۔سو وہ دونوں دریائے بے انتہاء ہیں کہ اگر تمام دنیا کے عاقل اور فاضل ان کی تعریف کرتے رہیں تب بھی حق تعریف ادا نہیں ہو سکتا۔چہ جائیکہ مبالغہ تک نوبت پہنچے۔ہاں الہامی عبارت میں کہ جو اس عاجز پر خداوند کریم کی طرف سے القاء ہوئی کچھ کچھ تعریفیں ایسی لکھی ہیں کہ بظاہر اس عاجز کی طرف منسوب ہوتی ہیں مگر حقیقت میں وہ سب تعریفیں حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی ہیں۔اور اسی وقت تک کوئی دوسرا ان کی طرف منسوب ہو سکتا ہے کہ جب تلک اس نبی کریم کی متابعت کرے اور جب متابعت سے ایک ذرہ منہ پھیرے تو پھر تحت الثریٰ میں گر جاتا ہے۔ان الہامی عبارتوں میں خداوند کریم کا یہی منشاء ہے کہ تا اپنے نبی اور اپنی کتاب کی عظمت ظاہر کرے"۔امرت سر کے بعد مخالفت کا دوسرا مرکز لدھیانہ تھا۔جس میں مولوی محمد صاحب اور مولوی عبد العزیز صاحب وغیرہ مخالفین اسلام کے خلاف مورچہ قائم کرنے کی بجائے آپ کی تکفیر اور مخالفت پر آمادہ ہو گئے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے علماء لدھیانہ کی ناقابل فہم روش دیکھی تو وہ تحقیق کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس کے پیچھے محض بغض و عداوت اور جہالت کار فرما ہے۔چنانچہ انہوں نے حقیقت سے نقاب اٹھاتے ہوئے مخالفت کے دو سبب بتائے۔ایک یہ کہ ان کو اپنی جہالت (نہ اسلام کی ہدایت) سے گورنمنٹ انگلشیہ سے جہاد و بغاوت کا اعتقاد ہے اور اس کتاب میں اس گورنمنٹ سے جہار و بغاوت کو ناجائز لکھا ہے۔لہذادہ لوگ اس کتاب کے مولف کو منکر جہاد سمجھتے ہیں۔اور از راہ تعصب و جہالت اس کے بغض و مخالفت کو اپنا نہ ہی فرض خیال کرتے ہیں۔مگر چونکہ وہ گورنمنٹ کے سیف و اقبال کے خوف سے علانیہ طور پر ان کو منکر جہاد نہیں کہہ سکتے اور نہ عام مسلمانوں کے روبرو اس وجہ سے ان کو کافر بنا سکتے ہیں لہذا وہ اس وجہ کفر کو دل میں رکھتے ہیں اور بجز خاص اشخاص جن سے ہم کو یہ خبر پہنچی ہے) کسی پر ظاہر نہیں کرتے۔اور اس کا اظہار دوسرے لباس و پیرایہ میں کرتے ہیں۔اور یہ کہتے ہیں کہ براہین احمدیہ میں فلاں فلاں امور کفریہ (دعوی نبوت اور نزول قرآن اور تعریف آیات قرآنیہ) پائی جاتی ہیں۔اس لئے اس کا مولف کا فر ہے “۔اور حد یہ تھی کہ ایک طرف یہ حامیان دین متین " آپ کو منکر جہاد قرار دیتے تھے اور دو سری طرف براہین احمدیہ کو ضبط کروانے اور آپ کو قانونی شکنجہ میں جکڑنے کے لئے پالک میں زور و شور سے یہ پراپیگنڈہ کر "