تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 2
تاریخ احمدیت۔جلدا میں دستور العمل قرار دے گا"۔سلسلہ احمدیہ کا تعارف پہلا امتیاز بلاشبہ خدا کے فضل سے ہر مکتب فکر کے داعی مسلمانوں میں اسلامی حکومت کے قیام کا جذ بہ روز افزوں ترقی پر ہے اور پین اسلام ازم طرز کی مختلف تحریکات بھی ابھر آئی ہیں مگر احمدیت بنیادی طور پر کئی پہلوؤں سے ان سب پر امتیازی شان رکھتی ہے مثلاً اول تو قیام احمدیت کے بعد اسلامی دنیا کے افق پر نمودار ہونے والی یہ کرنیں ہی صاف بتا رہی ہیں کہ یہ انقلاب حضرت امام الزمان کی بعثت کے ان مخفی تاثیرات اور فیضان کا نتیجہ ہے جو غیر شعوری طور پر ہر مصلح آسمانی کی روحانی توجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔تحریک احمدیت وحی الہی سے قائم ہوئی ہے۔بالفاظ دیگر اس کی پشت پر الہامی قوت دوسرا امتیاز بھی کار فرما ہے اور روحانی نظام بھی ---- رسول اللہ ﷺ کی یہ حیرت انگیز پیشگوئی تھی کہ اِذَا عَظُمَتْ أُمَّتِي الدُّنْيَا عَتْ مِنْهَا هَيْبَةُ الإِسْلَامِ وَإِذَا تَرَكَتِ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْي عَنِ الْمُنْكَرِ حَرَمَتْ بَرَكَةُ الْوَحْيِ وَإِذَا تَسَابَتْ أُمَّتِي سَقَطَتْ مِنْ عَيْنِ اللَّهِ عنى مخبر صادق نے فرمایا کہ جب میری امت دنیا کو بڑی چیز سمجھنے لگے گی تو اسلام کی ہیبت اور وقعت اس کے قلوب سے نکل جائے گی اور جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ بیٹھے گی تو وحی کی برکات سے محروم ہو جائے گی۔اور جب آپس میں گالی گلوچ اختیار کرے گی تو اللہ جلشانہ کی نگاہ سے گر جائے گی۔دوسری طرف تاریخ کی یہ ناقابل تردید شہادت ہے کہ ”جب لوگوں نے خدا کے بھیجے ہوئے احکام و ضوابط کو ترک کر کے خود ساختہ طریقوں کو اختیار کر لیا تو ان میں ہر طرح کی عملی و اخلاقی خرابی پھیل گئی اور سارا ملک فتنه و فساد اور فسق و فجور کا گہوارہ بن گیا۔"محرومی و بد بختی کے اس مرحلے پر پہنچنے کے بعد اس قوم کی حالت میں پھر اسی وقت انقلاب ہو ا جب اس میں کوئی خدا کا رسول مبعوث ہوا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ”نبی (علیہ السلام) کی صحبت میں یہ طاقت اور تاثیر ہوتی ہے کہ کافر ملحد اور مشرک اس کی بدولت مومن بلکہ موحد کامل بن جاتا ہے"۔اللہ تعالی اس نبی کی ذات کو چراغ بنا کر مبعوث کرتا ہے تاکہ اس سے دو سرے چراغ روشن ہو سکیں۔سب جانتے ہیں چراغ چراغ ہی سے روشن ہو سکتا ہے اور کوئی صورت نہیں۔تقریروں خطبوں کتابوں وعظوں ، باتوں، تجویزوں، مجلسوں ، پوسٹروں سے سب کچھ ہو سکتا ہے مگر چراغ روشن نہیں ہو سکتا "۔اس واضح حقیقت کی روشنی میں جب عصر حاضر کی ہلاکت آفرینیوں کی طرف نگاہ کی جائے تو صاف نظر آئے گا کہ کفر و الحاد کے موجودہ سیلاب میں خدائی تحریک کا قائم ہونا ضروری تھا اور وہی اس کا رخ پھیرنے میں کامیاب ہو سکتی تھی۔چنانچہ موجودہ زمانے میں انسانیت کے گم کردہ راہ