تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 1
تاریخ احمدیت جلدا باب اول لمع ل العين السمع محمدہ و نصلی علی رسوله الكريم -:- والسلام على عبده المسيح الموعود سلسلہ احمدیہ کا مختصر تعارف سلسلہ احمدیہ کا تعارف قیام کا مقصد نصب العین دیگر مسلم تحریکات کے مقابل اس کی امتیازی خصوصیات اور اس کے عظیم الشان دینی کارناموں پر ایک طائرانہ نظر احمدیت ایک بین الاقوامی اور آسمانی سلسلہ ہے جو انیسویں صدی کے آخر میں خدا تعالیٰ کے حکم اور اس کے قدیم نوشتوں کے مطابق مسیح وقت و مهدی دوراں سید نا حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے قائم ہوا۔اس الہی سلسلہ کا حقیقی مشن اس کے سوا کچھ نہیں کہ خدا تعالیٰ کا وہ قانون اور دستور جو دادی بطحاء میں سرتاج اولین و آخرین فخر الانبیاء والمرسلین حضرت محمد مصطفی ای کے مقدس ترین وجود پر نازل ہوا۔اور اپنے اصولوں کی حقانیت ، فلسفہ احکام کی قوت و صولت اور دلائل و براہین کی مقناطیسی کشش کے باعث دنیا پر غالب آگیا تھا اور بعد کو خود مسلمانوں ہی کی سرد مہری سے وہ صرف قرآن مجید کے اوراق ہی میں سمٹ کے رہ گیا۔ایک مرتبہ پھر پوری شان و شوکت کے ساتھ قائم ہو جائے۔اور نہ صرف یہ کہ دنیا کی تمام قومیں اور ممالک ہی اسے اپنا ملکی قانون بنانا اپنے لئے موجب فخر سمجھیں بلکہ ہر قلب و دماغ پر اس کی فرمانروائی ہو۔چنانچہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام نے اس تحریک سے وابستہ ہونے والے ہر فرد کو جن دس بنیادی شرائط کی پابندی کا ارشاد فرمایا ان میں ایک اہم ترین شرط یہ قرار دی کہ حلقہ بیعت سے منسلک ہونے والا ہر شخص یہ پختہ عہد کرلے کہ وہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آجائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے اوپر قبول کرے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنی ہر یک راہ