تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 181
تاریخ احمدیت جلد (A۔براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت اس چلینج نے دشمنان دین کے حوصلے پست کر دیے۔ان کے قلم ٹوٹ گئے۔اور وہ کوئی معقول جواب لکھنے پر قادر نہ ہو سکے۔برہمو سماج لیڈر اگنی ہوتری کو اپنی طلاقت لسانی پر بڑا غرہ تھا۔اور انہوں نے اس کا رد لکھنے کا اعلان بھی کیا۔لیکن حق کی قوتوں سے مرعوب ہو کر انہیں ہمیشہ کے لئے خاموش ہونا پڑا۔اور وہ ”جیون دھرم میں چند سطروں کے سوا کچھ نہ لکھ سکے۔اور جو کچھ لکھا اس کا جواب حضرت اقدس نے براہین احمدیہ ہی میں تحریر فرما کر اس کی غیر معقولیت اور بے ہودگی ثابت کر دکھائی۔بعض دو سرے پر ہمو سماجیوں نے پرچہ رفاہ عام میں حصہ سوم کے رد کی طرح ڈالی۔لیکن آپ کی قبل از وقت پیشگوئی کے مطابق وہ ذلیل و رسوا ہوئے۔اور خدا کے دین کی عظمت و صداقت اور نمایاں ہو گئی"۔" IA آریہ سماجی لیڈر سوامی دیانند براہین احمدیہ کی اشاعت کے بعد تین برس تک زندہ رہے اور براہین احمدیہ کے جواب کی جرات نہ کر سکے۔دوسرے آریہ سماجی لیڈروں پر بھی سکوت مرگ طاری رہا۔البتہ پشاور آریہ سماج کے ایک رسوائے عالم شاتم رسول اور دریدہ دہن شخص پنڈت لیکھرام نے تکذیب براہین احمدیہ کے نام سے جواب دینے کی ناکام کوشش کی۔مگر جواب کی بجائے ہنر لیات و فضولیات کا مجموعہ کہلانے کا مستحق تھا۔جو حضرت مولانا حکیم نور الدین ان کی تصدیق براہین احمدید" کے باطل شکن گرز سے ریزہ ریزہ ہو گیا۔چند دن تک پادری ایل ایل ٹھاکر داس صاحب نے بھی ” براہین احمدیہ کے خلاف شور و غونم بلند کئے رکھا۔مگر پھر تاب مقابلہ نہ لا کر دم بخود ہو گئے۔امر تسر اور لدھیانہ کے بعض حضرات کا افسوسناک مظاہرہ براہین احمدی خرمن کفر و ضلالت پر بجلی بن کر گری تھی۔اس لئے مخالفین اسلام کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف محاذ قائم کر لینا کوئی خلاف توقع امر نہیں تھا۔لیکن اسلامی دنیا یہ دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئی کہ مسلمانان ہند تو اس لاجواب اور معرکہ کی تصنیف پر نعرہ ہائے تحسین بلند کر رہے ہیں اور امرت سر اور لدھیانہ کے بعض مسلم حلقوں نے اس کے بلند پایہ مصنف کی مخالفت کا محاذ قائم کر رکھا ہے۔امرت سر کے بعض علماء کے نزدیک حضور کے الہامات غیر ممکن غیر صحیح اور ناقابل تسلیم تھے۔اور اس کا سبب (جیسا کہ خود مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ " جلدے صفحہ ۷۰ میں لکھا ہے) ان کی ناضمی ، بے ذوقی اور کسی قدر عموماً اہل اللہ اور اہل باطن سے گوشہ نعصبی تھا یہی وہ مقام ہے جہاں بعد میں حضرت اقدس پر یہ قرار داد "جرم" بھی لگائی گئی کہ آپ نے آنحضرت کی شان مبارک میں غلو اور مبالغہ آمیزی کا ارتکاب کیا ہے۔