تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 160 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 160

تاریخ احمدیت جلدا ۱۵۹ آریہ سماج کے خلاف جہاد عقل سلیم کو کام میں لا کر اپنے فرضی عقیدہ سے تائب ہونے کے لئے تیار نہیں تو مرزا صاحب کے وجوہ کو ہی اصول مناظرہ و منطق سے غلط ثابت کر دکھائیں۔ورنہ مفت کی بے سروپا اور بے ڈھنگی بکو اس کا سلسلہ قائم رکھنا عقلمندوں کے نزدیک ایک حرکت لغو شمار کی جاتی ہے"۔لالہ جیون داس ، بادا نارائن سنگھ اور لالہ ٹرمپت رائے وغیرہ ایک ایک کر کے میدان سے ہٹ گئے تو آخر میں چنیوٹ مڈل سکول کے آریہ سماجی مدرس منشی گردیال صاحب نے محض تحقیق حق کے لئے اخبار آفتاب (۱۶- مئی ۱۸۷۸ء) میں چند استفسارات روحوں کے انادی ہونے کے متعلق آپ کے سامنے پیش کئے اور با ادب درخواست کی کہ ان کے شکوک کا ازالہ فرمائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دندان شکن مضامین سے آریہ سماجی دنیا پر سکوت مرگ طاری ہو چکا تھا۔اس لئے اب مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔لیکن علمی تحقیق کی غرض سے آپ نے ایک بار پھر قلم اٹھانا ضروری سمجھا اور ان کے استخارات کا مدلل اور مسکت جواب دے کر حق تبلیغ ادا کر دیا۔اسلام کی چوتھی فتح اسلام اور آریہ سماج کی اس علمی جنگ کو چھپڑے کئی ماہ ہوگئے لیکن اس دوران میں سوامی دیانند جی مہاراج جنہیں اشتہار میں باقاعدہ نام لے کر مقابلہ کی بار بار دعوت دی گئی تھی خاموش تماشائی بنے رہے اور ان پر حق کا رعب اس درجہ چھایا رہا کہ کچھ کہنے کی سکت نہ پاسکے۔اور آخر مہینوں کے شدید انتظار کے بعد حضور کی خدمت میں تین آریہ سماجیوں کو یہ پیغام دے کر بھجوایا کہ اگر چہ ارواح حقیقت میں بے انت نہیں ہیں لیکن تاریخ اس طرح پر ہمیشہ بنا رہتا ہے کہ جب سب ارواح مکتی پا جاتے ہیں تو پھر بوقت ضرورت مکتی سے باہر نکالی جاتی ہیں"۔سوامی دیانند کے اس کھلے اعتراف سے اسلام کو چو تھی نمایاں فتح نصیب ہوئی۔پنڈت شو نرائن اگنی ہوتری کا فیصلہ چنانچہ پنڈت شو نرائن اگنی ہوتری نے مباحثہ کا ذکر کرتے ہوئے زور دار الفاظ میں یہ فیصلہ لکھا: سوامی دیانند سرسوتی مذہب کا جس قدر وعظ کرتے ہیں اور اس کے متعلق جن مسائل کا بیان فرماتے ہیں وہ سب دید کے موافق کہتے ہیں۔ان کے مقلد یہ یقین کر کے اور وید کو خدا کا کلام مان کر اندھا دھند جو کچھ سوامی صاحب کے منہ سے سن لیتے ہیں وہ خواہ کیسا ہی علم و عقل کے مخالف ہو مگر اس کے پیرو ہو جاتے ہیں۔چنانچہ چند ماہ سے بعض آریہ کاج کے لائق ممبروں اور ہمارے رسالہ کے مضمون نگار صاحب کے درمیان جو کچھ مباحثہ جاری ہے۔اس سے ہمارے ناظرین بخوبی واقف ہیں۔سوامی صاحب کے مقلد باوجود خدا کے قائل ہونے کے سوامی جی کی ہدایت کے موافق یا یوں کہو کہ دید کے احکام کے موافق اپنا یہ یقین ظاہر کرتے ہیں کہ ارواح بے انت یعنی لا انتہاء ہیں اور خدا ان کا پیدا