تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 156 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 156

تاریخ احمدیت جلدا ۱۵۵ آریہ سماج کے خلاف جہاد پنڈت کھڑک سنگھ سے مباحثہ ، اس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور کا فرار اور اسلام کی دوسری فتح بادا نارائن سنگھ صاحب کے درمیان مقابلہ جاری تھا کہ آریہ سماج امرت سر کے ایک ممبر پنڈت کھڑک سنگھ صاحب حضرت اقدس سے بحث کی طرح ڈالنے کے لئے قادیان آئے اور مستدعی بحث ہوئے۔یہاں انکار کا سوال ہی کیا ہو سکتا تھا۔حضور نے اطلاع ملتے ہی آمادگی کا اظہار فرما دیا۔مقام مناظرہ سرکاری پرائمری سکول کے پاس بڑھن شاہ کا تکیہ قرار پایا اور موضوع مناظرہ " تاریخ اور مقابله دید و قرآن تجویز ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مباحثہ کا آغاز کرتے ہوئے ابطال تاریخ پر اپنا معرکتہ الاراء مضمون پڑھ کر سنایا۔جس میں اپنے مخصوص علم کلام کے تحت دعوئی اور دلائل دونوں قرآن سے پیش کئے تھے۔یہ مضمون پیش کرنے کے بعد حضور نے مطالبہ فرمایا کہ وہ التزام کے مطابق دیدوں سے تاریخ کا ثبوت پیش کریں۔تا قرآن کے مقابل دیدوں کی حقیقت کھل جائے۔پنڈت کھڑک سنگھ جن کے متعلق قادیان کے آریہ کاج نے مشہور کر رکھا تھا کہ وہ ایسے نامی گرامی پنڈت ہیں کہ انہیں چاروں دید کٹھ ہیں ایسے دم بخود ہوئے کہ بحث کو دوسرے دن پر ٹالنے کے سوا کوئی چارہ کار نظر نہ آیا۔لیکن جب دوسرا دن آیا اور سامعین بڑے اشتیاق اور بے تابی سے جمع ہوئے اور جواب کے منتظر ہوئے تو اصل سوالات سے گریز کر کے کچھ اور ہی کتھا سنانا شروع کر دی۔اور دلائل دید کے پیش کرنے سے عجز مطلق ظاہر کرتے ہوئے صرف دو شرتیاں رگوید سے پیش کیں۔جن کا تاریخ سے سرے سے کوئی علاقہ ہی نہیں تھا۔آخر کہا گیا کہ اگر بحث منظور ہے تو برعایت آداب مناظرہ سیدھا جواب دینا چاہیئے اس پر انہوں نے چند بے ہودہ اور لاطائل فسانے چھیڑ دیئے۔مکرر توجہ دلائی گئی کہ اگر ہو سکتا ہے تو کچھ جواب دیجئے گا ورنہ ہم کتھا سنے تو نہیں آئے۔اس مرحلہ پر پنڈت صاحب زچ ہو کر بولے ” جواب دینا کیا مشکل ہے اگر ہم چاہیں تو پانچ منٹ میں جواب دے سکتے ہیں لیکن گھر میں کام ہے اب فرصت نہیں " یہ گفتگو جاری تھی کہ بھائی کشن سنگھ کے بیان کے مطابق اثنائے تقریر میں آنحضرت ﷺ کے متعلق بعض اعتراضات پنڈت کھڑک سنگھ صاحب نے کئے اور ان کا لب و لہجہ ایسا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو رنج ہوا اور حضور کے کلام میں تیزی پیدا ہو گئی۔کیونکہ حضور میں بے حد غیرت دینی تھی اور خصوصاً آنحضرت ﷺ کے خلاف تو بے ادبی کا کلمہ سن کر بے تاب ہو جاتے تھے اور برداشت ہی نہیں کر سکتے تھے۔آخر جب فضا بگڑنے لگی تو بحث بند کر دی گئی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہاں سے تشریف لے آئے۔اور عدد رسول کو گھر تک پہنچانے کے لئے ایک تحریری سوال نامہ لکھا جس کا عنوان یہ تھا کہ ”سوال اور جواب کہ جس کے