تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 149
تاریخ احمدیت جلدا ۱۴۸ والد ماجد کا وصال اور کثرت مکالمات اور میں نے اس خط کو پیکٹ کے اندر رکھ کر روانہ کیا تھا۔مگر میں نے گورنمنٹ کی نقصان رسانی محصول کے لئے بدنیتی سے یہ کام نہیں کیا بلکہ میں نے اس خط کو اس مضمون سے کچھ علیحدہ نہیں سمجھا اور نہ اس میں کوئی بج کی بات تھی۔یہ بات سنتے ہی خدا تعالٰی نے اس انگریز کے دل کو حضور کی طرف پھیر دیا۔حضور کے مقابل پر ڈاک خانہ جات کے افسر نے بہت شور مچایا اور اپنا کیس مضبوط کرنے کے لئے انگریزی میں لمبی لمبی تقریریں کیں مگر وہ حاکم ہر ایک تقریر کے بعد زبان انگریزی میں نو نو (No No) کر کے اس کی سب باتوں کو رد کر دیتا تھا۔انجام کار جب وہ افسر اپنے تمام وجوہ پیش کر کے تمام بخارات نکال چکا تو حاکم نے فیصلہ لکھنے کی طرف توجہ کی اور شاید سطر یا ڈیڑھ سطر لکھ کر حضور سے کہا کہ آپ کے لئے رخصت۔اور مقدمہ خارج کر دیا۔حضرت اقدس عدالت کے کمرہ سے باہر تشریف لائے اور اپنے حقیقی کا شکر بجالائے جس نے حضور کو راست گفتاری کی برکت سے اس معرکہ میں شاندار فتح بخشی۔حضور اقدس نے مقدمہ سے قبل یہ خواب بھی دیکھی تھی۔کہ ایک شخص نے حضور کی ٹوپی اتارنے کے لئے ہاتھ مارا۔حضور نے فرمایا کیا کرنے لگا ہے۔تب اس نے ٹوپی حضور ہی کے سر پر رہنے دی اور کہا کہ خیر ہے خیر ہے"۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس غیر معمولی کامیابی پر حضور کے وکیل شیخ علی احمد صاحب جو فیصلہ میں سزا کا یقین کر کے عدالت ہی سے غائب ہو گئے تھے حیرت زدہ رہ گئے اور آخر دم تک حضور کی فوق العادت راست گفتاری کے عمر بھر مداح رہے۔سفر سیالکوٹ اسی سال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حکیم میر حسام الدین صاحب کی دعوت پر سیالکوٹ کا سفر اختیار کیا اور اپنے مخلص ہندو دوست لالہ ھیم سین ا صاحب کے ہاں قیام فرمایا۔منشی سراج الدین صاحب مرحوم بانی ای سال بر صغیر ہند و پاکستان کے مشہور صحافی سیاسی لیڈر اور قومی شاعر ظفر علی خان صاحب اخبار زمیندار کا قادیان میں درود کے والد منشی سراج الدین صاحب بانی اخبار "زمیندار" غالبا مرزا موحد بیگ صاحب جالندھری کی معیت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کے لئے حاضر ہوئے اور ایک رات کے مختصر سے قیام کے بعد واپس آگئے۔اس ملاقات میں وہ آپ کے استغراق اور انقطاع الی اللہ سے بے حد متاثر ہوئے اور عمر بھر اس کی یاد سے لطف اندوز ہوتے رہے۔چنانچہ اپنے اخبار زمیندار مئی ۱۹۰۸ء میں لکھا: ۱۸۷۷ء میں ہمیں ایک شب قادیان میں آپ کے یہاں مہمانی کی عزت حاصل ہوئی ان دنوں