تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 150
تاریخ احمدیت جلدا ۱۴۹ والد ماجد کا وصال اور کثرت مکالمات میں بھی آپ عبادت اور وظائف میں اس قدر محود مستغرق تھے کہ مہمانوں سے بھی بہت کم گفتگو کرتے ای سال قادیان میں ایک سیاہ کار سادھونے قادیان سے ایک سیاہ کار سادھو کا اخراج ڈیرہ لگا لیا۔یہ سادھو بڑی وزنی موگریوں سے ورزش کیا کرتا تھا۔ہندو عوام تو خوش اعتقادی سے اسے شہ زوری میں ہنومان کا مثیل سمجھنے لگے تھے اور وہ تقدس کے پردہ میں عصمتوں کو پارہ پارہ کرنے میں مصروف رہتا تھا۔آبروریزی کا یہ سیلاب ابھراہی تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک اس کی خبر پہنچ گئی۔حضور نے سنتے ہی چوکیدار کے ذریعہ سے اس بد باطن سادھو کو حکم دیا کہ یہاں سے چلے جاؤ۔چنانچہ وہ ہیبت زدہ ہو کر اپنا بستر بوریا اور موگریاں وغیرہ اٹھائے گاؤں سے بھاگ گیا اور پھر کبھی دکھائی نہ دیا۔2 نعمۃ الباری " کی تصنیف کا ارادہ غالبا اس دور میں حضور نے ایک کتاب نعمة الباری" کی تصنیف کا ارادہ فرمایا۔اور فارسی اشعار میں اس کا خطبہ بھی لکھا لیکن بعد میں خود ہی بتایا کہ جب میں نے قلم لے کر لکھنا شروع کیا تو یکا یک باران رحمت کا نزول ہوا۔اور میں نے محسوس کیا کہ ہر ایک قطرہ بارش اپنے ساتھ لا انتہاء برکات اور فیوض لے کر آتا ہے اس کو دیکھ کر اور اس احساس کے بعد میں نے قلم رکھ دیا کہ میں خدا تعالٰی کی نعمتوں اور فضلوں کو گن نہیں سکتا۔جیسے بارش کے ان قطرات کا شمار میرے امکان سے باہر ہے اسی طرح یہ امر بھی میرے امکان سے خارج ہے کہ میں خدا تعالٰی کے ان انعامات کا جو مجھ پر ہوئے ہیں گن سکوں۔ساری دنیا اور اس کا ایک ایک ذرہ اور نظام عالم کو میں نے اپنی ذات کے لئے دیکھا اور معرفت کا دفتر مجھ پر کھولا گیا۔اور میں نے سمجھا کہ یہ بارش کا نزول محض اس لئے تھا کہ میں اس حقیقت کو پاؤں کہ میں افضال الہی اور انعام الہی کو شمار کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔اور یہ راز منکشف ہو گیا۔کہ اگر تم خدا تعالٰی کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو ہر گز نہ کر سکو گے۔اس طرح یہ کتاب ہمیشہ کے لئے معرض التواء میں چلی گئی۔11