تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 146 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 146

تاریخ احمدیت جلدا ۱۴۵ والد ماجد کا وصال اور کثرت مکالمات حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام کے والد ماجد کو قادیان کے سالم گاؤں پر حقوق مالکانہ حاصل تھے۔اور اس کے علاوہ بٹالہ امرت سر اور گورداسپور میں مکانات اور دو کانات کی شکل میں معقول جائیداد بھی موجود تھی۔اور چونکہ آپ دو بھائی تھے اس لئے شرعاً اور قانوناً آپ ان کی مترو کہ جائیداد کے برابر کے حصہ دار تھے اور اگر آپ چاہتے تو اسے تقسیم کراسکتے تھے۔لیکن آپ اپنے والد ماجد مرحوم کی وفات کے بعد جائیداد سے بالکل بے نیاز ہو کر عبادت، مطالعہ کتب اور اعلائے کلمہ الاسلام میں مشغول ہو گئے۔اور پوری جائیداد بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کے سپرد فرما دی اور اپنا یہ معمول بنالیا کہ حتی الوسع کسی قسم کی ضروریات کا اظہار نہ فرماتے۔جو کچھ پہنے کو ملا عجب شان بے نیازی سے پہن لیتے اور جو کھانا آتا وہ اپنے گذشتہ دستور کے مطابق مرزا مہتاب بیگ، حسینا کشمیری جمال کشمیری ، غفارا اور حافظ معین الدین صاحب وغیرہ کو دے دیتے اور خود ایک پیسے کے پنے منگوا کر گزارا کر لیتے۔اور جب یہ بھی نہ ہو تا تو فاقہ کر لیتے۔غرض کہ ان دنوں آپ نہایت سادہ اور درویشانہ زندگی بسر کر رہے تھے۔اور صبح شام ذکر الہی اور اشاعت حق اور تربیت و اصلاح کے مشاغل میں گذرتے تھے۔بے شبہ آپ کے بڑے بھائی آپ کا ادب و احترام بھی کرتے اور آپ سے محبت کی وجہ سے آپ کی ضروریات مہیا کرنے میں ایک گونہ خوشی بھی پاتے تھے مگر دنیا داری کے رنگ میں پوری طرح رنگین ہونے کے سبب وہ اکثر اظہار افسوس ہی کرتے رہتے تھے کہ آپ کسی کام کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔بلکہ ان کی نگاہ میں ایک لمبے عرصہ سے اور غالیا اپنے والد ماجد کے تاثرات کے تحت آپ کے متعلق یہ نظریہ ہو چکا تھا کہ آپ زمانہ کے تقاضوں سے غافل اور دنیاوی معاملات میں بالکل ست ہیں۔آپ کا مطالعہ کتب اور دوسرے دینی مشاغل ان کے نزدیک محض ضیاع وقت تھے۔چنانچہ آپ نے ایک دفعہ کسی اخبار کے منگوانے کے لئے ان سے ایک نہایت قلیل رقم منگوائی تو انہوں نے آپ کی جائیداد پر قابض ہونے کے باوجود صاف انکار کر دیا اور کہا یہ اسراف ہے۔کام تو کچھ کرتے نہیں اور یونہی بیٹھے کتب راخبارات کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ان کا یہ طرز عمل اور دنیا دارانہ سلوک گو بہت حوصلہ شکن اور صبر آزما تھا لیکن مصیبت کی حد یہ تھی کہ وہ خود تو گورداسپور میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں ملازم تھے اور اکثر گورداسپور میں رہتے تھے لیکن ان کی غیر حاضری میں گھر کے منتظمین آپ کو اونی اونی معاملات میں بھی تنگ کرنے میں کوشاں رہتے تھے۔وہ حضور کو اپنا دست نگر سمجھتے اور آپ کے خلاف یہاں تک بائیکاٹ ساکر رکھا تھا کہ اگر دوسرا کوئی حضور کی خدمت میں کوئی چیز بھجواتا تو علم ہونے پر ان کا غم و غصہ انتہا تک پہنچ جاتا تھا۔وسط ۱۸۷۷ء کا واقعہ ہے کہ جب حضرت میر ناصر نواب صاحب مرزا غلام قادر صاحب کے مشورہ پر قادیان رہائش پذیر ہوئے۔مرزا غلام قادر صاحب جب